Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 32

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲

و تعالیٰ آدم الی الان - ای الی عھد ابن الاثیر ۔ لم یبتلوا بمثلھا کان صادقاً .. اور اس کے مصداق بن کر یوں سامنے آئے جیسے کوئی انسانیت پر نہیں کیا تو یقیناً وہ سچا ہوگا ۔ یکم کی اس الہر کے کھ رکھ سکے کتار کا ٹاٹکانا بشالکا اڑا کر دیا سلطان صلاح الدین ایوبی (۵۹۳۔ ۱۱۱۳ء) کی وفات کے ۲۰ سال سے بھی کم عرصہ میں اتنا بڑا حادثہ عالم اسلام پر کیوں پیش آیا۔ کچھ لوگ اس سلسلہ میں تاتاریوں کی سفاکی کا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حکمراں قومیں ہمیشہ سفاک دشمنوں کے نرغہ میں رہتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی "تاتار" مسلمانوں کے لئے ہمیشہ موجود رہا ہے۔ پھر اس کو تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز ہی میں یہ شان دار کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ حالاں کہ یہ وہ وقت تھا جب کہ اسلامی سلطنت کی وسعت، اس کی مسلسل فتوحات، اس کی حربی اور تمدنی ترقیاں اور اس کے مقابلہ میں یورپی قوموں کی عبرت ناک پسپائی نے اتنی دھاک بٹھا دی تھی کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند سلطنت اسلامی کی طرف رخ کرنے کی جرأت مشکل ہی سے کر سکتا تھا۔ تاتاری حملہ کا واقعہ ولی عیلیفہ ناصر الدین اللہ (۵۲۲ - ۵۵۳ ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ مشہور مورخ ابن اثیر اس خلیفہ کا ہم عصر تھا۔ وہ تاتاریوں کی خوں ریزی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے : وكانوا كلما مروا بمدينة أو قرية وضعوا السيف على أهلها دون تفرقة بين كبير أو صغير اورجل او امرأة، وعمت بلاد المشرق جرائهم وفضائعهم جب وہ کسی شہر یا گاؤں سے گزرتے تو اس کے باشندوں پر اپنی تیغ بے نیام کر دیتے اور بڑے چھوٹے، عورت ، مرد سب کو قتل کر ڈالتے۔ مشرق کے تمام علاقے ان کے جرائم سے بھر گئے۔

ابنِ اثیر نے (۲۴۱-۶۱۲ھ) کے حوادث کے ذیل میں لکھا ہے : ان سبب خروج التارالى الديار الاسلامية هو تصرف خوارزم شاه السيتي بقتل جماعة من التّار جادوا إلى بلاده للتجارة ونهب اموالهم بلاد اسلامیہ پر تاتاریوں کی یورش کی وجہ خوارزم شاہ کی یہ بیہودہ حرکت تھی کہ اس نے تاتاریوں کی جماعت کو قتل کر دیا اور ان کے اموال کو چھین لیا جو کہ اس کے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے۔

یہی قصہ مختلف شکلوں میں مشہور ہوا ہے تا تاری فتنے کی ذمہ داری خوارزم شاہ (م ۵۶۱ھ) پر ڈالی گئی ہے۔ مگر تاریخ کے گہرے مطالعے سے یہ بات صحیح نظر نہیں آتی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود مورخ ابن اثیر نے دوسرے ہے، فرمائیں گے ہر وقت سامنے یہ بات ہے سر راہ ہی، موقع پر ایک اور بات لکھی ہے :

وقيل في سبب خروجهم الى بلاد الاسلام غير ذلك مما لا يذكر في بطون الدفاتر:

فكان ما كان مما لست اذكره فظن خيرا ولا تسال عن السبب مہلک کی بنیاد ہے، اس پر اور کچھ مزید گفتگو ہوگی۔ تاز تاریپوں کی یورش کا اس کے سوا دوسرا سبب بھی بیان کیا گیا ہے جس کو لکھا نہیں جاسکتا، جو معاہدہ ہوا ۔ اب میں اس کو بیان نہیں کروں گا۔ تم اچھا گمان کر لواور سبب مت پوچھو۔ الکامل ، ج ۹، صفحہ ۳۳۱ اس کے بعد میں صاحب حقہ یہ کہ جو اس بارے میں نگ - تاریخ ابن اثیر کے اس بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی اسباب سے اصل حقیقت کو چھپا رہا ہے، مگر یہ تاریخ

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page