متحدہ محاذ کی سیاست
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸
کے حصہ میں آئی ہے اور اسلام پسند گروہ کا اس کے سوا کچھ نہیں ملا کہ ساری طاقت خرچ کرکے سیاست کے صحرا میں ملوما مدحودا بنے رہیں ۔
اب اسی نادان سیاست کو ہندوستان کے کچھ مسلم قائدین نے اس ملک میں درآمد کیا ہے۔ وہ مہاذاتی سیاست کے نعرے لگارہے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ایک سیاسی پارٹی سے مل کر دوسری پارٹی کو شکست دیتے ہیں۔ مگر قوم کے بے شمار وسائل کو خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں جو آخری چیز آئی ہے وہ صرف یہ کہ الیکشن کے بعد جب لوگ اسمبلیوں پر قبضہ کرلیں اور وزارتیں بنالیں تو ہمارے لیڈر اسٹیج پر نمودار ہو کر یا پریس کانفرنس کرکے یہ انکشاف‘‘ کریں کہ جیتنے والوں نے ہم سے فلاں فلاں وعدے کئے تھے جو پورے نہیں کئے گئے۔ ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں مہاذاتی سیاست کے رہنماؤں نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر ریاستوں میں حکمران کانگریس کو شکست دی۔ ، ۱۹۷۷ کے الیکشن میں اندرا گاندھی کی شکست کے بعد ایک مسلم رہنما نے کہا " آج ہم نے ظلم کا بیڑا غرق کر دیا ، مگر ان فتوحات کے باوجود اصل صورت حال آج بھی ویسی ہی ہے جیسی کہ وہ پہلے تھی ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ہی غلطی کو ہم کب تک دہراتے رہیں گے ۔ اصل سیاست یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنایا جائے۔ سیاسی اشتراک یا متحدہ محاذ ہمیشہ اس فرقے کے لئے مفید ہوتا ہے جو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ فیصلہ کن پوزیشن کا حامل ہو، اندرونی کمزوری اور انتشار کو درست کرنے سے پہلے متحدہ محاذ کی طرف دوڑنا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ (اگست ۱۹۷۲)
اس سلسلہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں تک جزوی امور میں تعاون کا تعلق ہے ۔ اس قسم کا تعاون ہر ایک سے لیا جا سکتا ہے، حتی کہ کافر و مشرک سے بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر میں عبداللہ بن اریقط کو رہنما بنایا جو کہ مشرک تھا ۔ صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے، حالاں کہ اس وقت تک وہ مشرک تھے۔ امام زہری نے روایت کیا ہے :
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استعان بناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں سے جنگ کے من اليهود في حربه فاسم هم لہم (رناه سعيد في سننه) موقع پر مدد کی تو ان کے لئے مال غنیمت میں حصہ مقرر کیا۔ مگر یہ جزوی اور انفرادی تعاون کی مثالیں ہیں۔ کلی جدوجہد کے سلسلہ میں کبھی اغیار پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر وہ جدوجہد جو " غیر صالح حکمران ‘‘ کو ہٹا کر اس کی جگہ صالح حکمران‘‘ کو لانے کے لئے کی جائے۔ اس قسم کی سیاسی جدوجہد تمام تر جماعت صالحہ کی اپنی طاقت پر ہونا چاہئے ۔ کوئی جماعت صالح اگر اپنے بل پر انقلاب لانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کا غیر سیاسی دائرہ عمل میں کام کرنے پر قانع رہنا اس سے بہتر ہے کہ وہ غیر صالح عناصر کو لے کر عملی سیاست کے میدان میں کود پڑے ۔ یہ غیر صالح عناصر اپنے مزاج کی بنا پر ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ " غیر صالح حکمران‘‘ کو بے دخل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور خالی شدہ تخت کو تمام تر جماعت صالحہ کے حوالے کر دیں۔ وہ لازماً یہ چاہیں گے کہ تخت پر خود قبضہ کریں۔ اس وقت " متحدہ محاذ ‘‘ کے اندر باہمی کش کش شروع ہوگی جو یقینی طور پر غیر صالح عناصر کے کے غلبہ پر ختم ہوگی ۔ ساری تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues