Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 37

متحدہ محاذ کی سیاست

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۷

کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ہے۔ اخوانی رضا کار قاہرہ کی سڑکوں پر پہرہ دینے میں مشغول تھے۔ وہ ان خفیہ باتوں کے بھی راز دار تھے جن میں شاہ فاروق کو تخت سے معزول کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی ۔

" جب اخوان المسین اور فوجی افسروں کے اشتراک سے مصر میں انقلاب آیا تھا تو کیوں ایسا ہوا کہ فوجی افسروں نے بر سر اقتدار آنے کے بعد اخوانیوں کو ختم کر دیا۔ " یہ سوال اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے ۔ جواب بالکل سادہ ہے ۔ یہ " اشتراک " اسی قسم کی ایک غلطی تھی جس کا نمونہ اوپر کی مثالوں میں آپ دیکھ چکے ہیں ۔

شاہ فاروق کی فوج کے کچھ جو نئیر افسر فاروق کی قبر کے اوپر اپنی حکمرانی کا تختہ بچھانے کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ مگر انہیں شبہ تھا کہ وہ تنہا اپنے اس خواب کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف اخوان المسین مصر میں اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہشمند تھے۔ مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی اس تمنا کو کس طرح واقعۂ بنائیں ۔ دونوں کی راہ کی رکاوٹ بظاہر صرف ایک چیز تھی ، شاہ فاروق کی حکومت ۔ اس صورت حال نے دونوں گروہوں کے لئے ایک مشترک نقطۂ اتحاد فراہم کر دیا۔ باہم ملاقاتیں اور دوستیاں شروع ہو گئیں ۔ خفیہ مجالس میں شاہ کے خلاف اسکیمیں بننے لگیں۔ دونوں خوش ہو گئے کہ مقصد کے حصول کا قریبی موقع ہاتھ آ گیا ہے ۔ مگر جب حکومت بدلی تو فطری طور پر وہ ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو زیادہ ہوشیار اور عملی طور پر حکومت سے قریب تھے اور اتفاق سے یہ وہی لوگ تھے جن کو اسلامی یگانگت سے زیادہ ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے شوق نے فریق ثانی سے قریب کیا تھا۔ انقلاب کے بعد نہیں محسوس ہوا کہ ان حوصلوں کی تکمیل میں پہلے جہاں شاہ فاروق کی شخصیت حائل تھی وہاں اب یہ " قدیم دوست “، آکر کھڑے ہو گئے ہیں یا کم از کم کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ حل بہت آسان تھا ۔ پہلے کے فوجی افسر ملک کے حکمراں بن چکے تھے۔ انھوں نے اپنے قدیم دوستوں کو اس سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ اپنی راہ سے ہٹا دیا جس کا مظاہرہ انھوں نے شاہ فاروق کی معزولی کے وقت کیا تھا۔

اسی اتحادی سیاست کو مزید بدتر شکل میں پاکستان میں دہرایا گیا ہے ۔ ۱۹۵۱ میں پاکستان میں فوجی انقلاب ہوا اور صدر ایوب کی " ڈکٹیٹر شپ “، ملک میں قائم ہو گئی ۔ یہ صورت حال ملک کے بہت سے لوگوں کے لئے پریشان کن نہ تھی ۔ ان میں ایک طبقہ اسلام پسند ، حضرات کا تھا ، یہ لوگ پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے علم بردار تھے اور صدر ایوب اور ان کی " بنیادی جمہوریت "، ان کے نزدیک اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔ دوسرا گروہ سیکولر اور سوشلسٹ ذہن رکھنے والوں کا تھا ۔ ان کو بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ " بنیادی جمہوریت “، کے ہوتے ہوئے وہ ملک کے اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں گے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کو ختم کیا جائے ۔ دونوں گروہ آخری منزل کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف نقطۂ نظر رکھتے تھے ۔ تاہم دونوں محسوس کرتے تھے کہ " صدر ایوب “ کی ذات دونوں کے لئے یکساں رکاوٹ ہے ۔ اشتراک کی اس منفی بنیاد نے دونوں کو ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم پر یک جا کر دیا ۔ اور پھر دونوں نے مل کر ملک میں وہ طوفان مچایا کہ خود ملک ڈکٹیٹر ہو کر رہ گیا ۔ یہ متحدہ محاذ جو بڑے وعدوں کے ساتھ بنایا گیا تھا جب اپنے آخری انجام کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کا سارا فائدہ سیکولرزم اور سوشلزم کے علم برداروں

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page