متحدہ محاذ کی سیاست
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۰
عزائم میں تبدیل ہو گئے۔ خاموش تعمیری کاموں میں مشغول رہنے کے بجائے وہ سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا حکمران بنایا جائے ۔ راز کھل گیا۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگایا کہ اس نے فوجی سردار مونش خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوادیا گیا۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چین دیا گیا۔ تاہم ابن مقلہ کی خیانت اس کے کام آئی۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی ۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لئے مسائل پیدا کئے۔ یہاں تک کہ راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا ۔ اس میں سے ایک شعر یہ تھا: لیس بعد الیمین لذة عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا ۔
ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا تھا ۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا ۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ با کمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا ۔
ابن مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کئے۔ وہ کہتا تھا: "وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسول اللہ کی فلاں فلاں حدیثیں لکھیں، جس نے مشرق و مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔ " ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جدوجہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی ، مواقع کو برباد کر رہے ہیں، ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انھیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بہترین صلاحیتیں ہمیشہ سیاسی عزائم میں برباد ہوتی ہیں۔ سیاست بازی کے کام میں عام طور پر وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو قدرت سے اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیری خدمت میں لگانے کے بجائے سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ بے شمار اقتصادی وسائل برباد ہوتے ہیں۔ اور عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ کچھ لوگوں کو لیڈرانہ شہرت حاصل ہو جائے اور عوام کے حصہ میں صرف یہ نتیجہ آئے کہ ایک "ظالم" کی جگہ دوسرا "ظالم" ، تخت سلطنت پر بیٹھ گیا ہو۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے کہ مقابلہ آرائی کی سیاست سے کبھی کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ قوم کو اٹھانے کا راز یہ ہے کہ قوم کے رہنما اپنے سیاسی جھنڈے کو نیچا کر لیں۔ انفرادی حوصلوں کا بیج جہاں زمین میں دفن ہوتا ہے وہیں سے قومی مستقبل کا شاندار درخت اگتا ہے۔ آج ہماری تاریخ کو اسی قسم کی "شہادت" کا انتظار ہے۔ r٠،
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues