Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 41

متحدہ محاذ کی سیاست

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱

سیاست کے ساتھ دینی خدمت کا کام نہیں کیا جاسکتا شمالی نائیجیریا کی ۵۰ ملین آبادی میں آدھے سے زیادہ مسلمان ہیں۔ دوسو برس پہلے کی بات ہے۔ شمالی نائیجیریا کے سلطان بیوا نے ریاست کے علما کو اپنے دربار میں بلایا اور ان کو تحفے دئے ۔ آنے والوں میں ایک بزرگ نے تحفہ قبول نہیں کیا۔ یہ عثمان دان فوڈیو (۱۸۱۷ - ۱۷۵۴) تھے۔ انھوں نے کہا: میں آپ کا تحفہ اس وقت لوں گا جب کہ آپ مجھ کو تبلیغِ اسلام کا پروانہ عطا فرمائیں ۔ سلطان نے فوراً ان کے مطالبہ کو مان لیا، عثمان دان فوڈیو نے اس کے بعد تبلیغ و دعوت کا کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں سے نائیجیریا کے بہت سے باشندے مسلمان ہو گئے۔ تاہم یہ سلسلہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ عثمان دان فوڈیو نے اس کے بعد سلطان کے سامنے سیاسی مطالبات رکھنے شروع کئے ۔ "تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو، ٹیکس کی شرح گھٹاؤ، وغیرہ۔ " اس قسم کے مطالبات نے حکمرانوں کو خفا کر دیا۔ سلطان بیوا کسی طرح ان کو برداشت کرتا رہا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا سلطان نف تا تخت پر بیٹھا۔ اس نے نہ صرف عثمان دان فوڈیو کے سیاسی مطالبات کو رد کیا بلکہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگادی ۔ اب عثمان دان فوڈیو اور ان کے ساتھی سلطان کے سیاسی مخالف بن کر کھڑے ہو گئے۔ ۱۸۰۹ میں اس باہمی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو عثمان دان فوڈیو کی موت (۱۸۱۷) تک ناکام طور پر جاری رہا۔ احمد و بلو انھیں عثمان دان فوڈیو کے لڑکے تھے جن کو اپنے باپ سے انحام سے کوئی سبق نہیں لیا اور اسی حجرے پر پھر دہرایا جو ان کے پیش رو کے زمانہ میں ناکام ہو چکا تھا۔ ”میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر ۱۹۶۳ سے لے کر مارچ ۱۹۶۵ تک تقریباً دو لاکھ (۱۸۶۹۳۰) مشرکوں نے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ نائیجیریا کے سابق وزیر اعظم الحاج احمدو بلو (۱۹۶۶ء ۔ ۱۹۰۱) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے ۱۳۸۳ھ (۱۹۶۳ء) کی موتمر اسلامی (قاہرہ) میں تقریر کرتے ہوئے کہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ ۲۲ کروڑ آبادی میں دس کروڑ ۸۰ لاکھ مسلمان ہیں۔

اگر مسلم ملکوں کی مدد شامل ہو تو افریقہ کے مشرک قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ اور اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا۔ “ احمد و بلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان ڈان فوڈیو سے ملا تھا۔ ۱۹ ویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے رد عمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھیں میں سے ایک عثمان ڈان فوڈیو بھی تھے۔ انھوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائیجیریا کے کنارے ایک طرف تبلیغی جذبہ کی دراشت ملی تھی اور اسی کے ساتھ سیاسی جہاد کی بھی عجیب بات ہے کہ احمد و بلو نے اپنے والد کے اسم کنارے دور تک انھوں نے اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ ۱۸۳۳ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page