سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴
کا اصول قائم کریں جیسا کہ وہ پہلے قائم تھا۔ مگر عوامی جمہوریت کو زندہ کرنے کے بعد اس قسم کی کوشش خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج سے بھاگنے کے ہم معنی تھا۔ بنگلہ دیش عوامی رائے دہی کے اصول کے تحت ملی ہوئی سیاسی فوقیت کو چھوڑ کر نہیں سکتا تھا۔ جمہوری منطق کے تحت پیدا شدہ نتائج کے انکار نے نہ صرف شدید تر مسائل پیدا کئے ۔ دونوں حصوں میں کشمکش بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ خود پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
۱۹۷۰ء میں یہ تجربہ اب ایک نئی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دوسرے عوامی انتخاب (۱۹۷۷ء) میں بھٹو پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ حزبِ مخالف کے لئے یہ سیاسی محرومی نا قابل برداشت تھی راس نے الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے نعرہ لگایا کہ بھٹو پارٹی دھاندلی کر کے الیکشن جیتی ہے۔ ورنہ پاکستانی عوام کی ننانوے فی صد اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ انھوں نے ”دوبارہ الیکشن کراؤ“ کے نام پر پاکستانی شہروں میں ہنگامہ شروع کر دیئے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر فوجی افسروں نے بغاوت کر دی اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ صرف ریفری کے طور پر حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے ہیں اور بہت جلد منصفانہ الیکشن کرائے جائیں گے۔
پاکستان قومی اتحاد کے لیڈر خوش ہو گئے اور ۷ ۱۹۷ء کو ”عام الفتح“ قرار دیا۔ مگر بھٹو پارٹی کے جلسوں میں عوام کی بھیڑ نے بتایا کہ بھٹو کے بے اقتدار ہونے کے باوجود عوام اب بھی اسی کے ساتھ ہیں اور اگر الیکشن ہوا تو بھٹو پارٹی ہی دوبارہ برسرِ اقتدار آ جائے گی۔ جس جمہوریت کو لانے کے لئے پاکستانی رہنماؤں نے چوتھائی صدی خرچ کر دی تھی وہ جب آئی تو معلوم ہوا کہ وہ ساری کی ساری ”بھٹو“، جیسے لوگوں کے حصہ میں چلی گئی ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ مسئلہ صرف جمہوری انتخابات کا نہیں ہے بلکہ ”مسئلہ انتخابات کی پیش آمدہ مصیبت اور ان کے متوقع بھیانک نتائج کا بھی ہے۔ اب انھوں نے اپنے نعرے بدل دیئے۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ ”جمہوریت کو جلا ڈالو۔ لوگوں کی آزادیاں سلب کر لو۔ عمر کا کوٹا حرکت میں لاؤ (المینبر، فیصل آباد ۱۴۔ اکتوبر ۱۹۷۷ء) یہی پاکستان کے تمام مخالف بھٹو رہنماؤں کا منہ ہے۔ کوئی اس بات کو بھندے الفاظ میں کہہ رہا ہے اور کوئی خوبصورت الفاظ میں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس قسم کی سیاست خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب پاکستان میں عوامی جمہوریت کو زندہ کیا گیا ہے تو اب یہ ممکن نہیں کہ اس کے منطقی نتائج کو ظہور میں آنے سے روکا جا سکے۔ پاکستانی رہنماؤں کی یہ سیاست بلا شبہ ان کے لئے نہایت مہنگی پڑے گی۔ ”نظامِ مصطفیٰ“ اور ”نظریہ پاکستان“ جیسے الفاظ بول کر اس سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس قسم کی غلطی بار بار کیوں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ”سیاسی حرص“ ہے۔ ہمارے رہنما صرف اتنے پر قانع ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں جو حقیقی حالات کے اعتبار سے انھیں مل سکتا ہے۔ ان کی اس کمزوری نے انھیں غیر حقیقت پسند بنا دیا ہے۔ وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کو نبھانے کی طاقت ان میں نہیں ہوتی۔ اسلامی تعلیم کے مطابق آگر وہ حرص کے بجائے قناعت کا طریقہ اختیار کریں تو وہ زیادہ بڑی اور حقیقی کامیابی حاصل کریں اور قوم کو بھی نئے سے مسائل سے دوچار کرنے کی ذمہ داری سے بچ جائیں۔ ( ۲۳ راکتوبر ۱۹۷۷ء)
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues