سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
کوئی مرد عورت اپنی اولاد کو تعلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتے ۔ یہی سیاست کا معاملہ بھی ہے کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اپنے پیدا کردہ سیاسی حالات کے منطقی نتائج سے انکار کر سکے ۔ ایسی ہر کوشش ہمیشہ الٹی پڑتی ہے اور ہٹ دھرمیومیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس کو پاکستان کی مثال سے سمجھئے ۔
پاکستان تقسیم کے نعرہ پر بنا مسلمانوں کی طرف سے ” ڈائرکٹ ایکشن“ کی نوبت آجانے کے بعد بالآخر یہ تحریک کامیاب ہوئی اور فرقہ ثانی نے اس مطالبہ کو مان لیا کہ آبادی کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کر دیا جائے ۔ مگر جب میں جب تقسیم کی سرحدیں طے کرنے کا وقت آیا تو پاکستانی لیڈروں کو نظر آیا کہ تقسیم کے اصول کے مطابق ” جونا گڑھ “، ” حیدر آباد ، جیسی مسلم ریاستیں ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہیں۔ اب انھوں نے کوشش کی کہ دیسی ریاستوں کے معاملہ میں الحاق کے اصول کو مبہم رکھا جائے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ بیک وقت کشمیر پر بھی قبضہ کرلیں گے اور حیدر آباد پر بھی۔ کشمیر کو اس دلیل سے کہ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، حیدر آباد کو اس لئے کہ وہاں کا حکمران مسلمان ہے۔ مگر یہ خود اپنے پیدا کردہ حالات کے منطقی نتائج سے انکار کرنا تھا۔ چنانچہ اس کا انجام الٹا ہوا۔ دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش میں پاکستان ایک کو بھی نہ پکڑ سکا۔
پاکستان بنا تو وہ دو ایسے الگ الگ حصوں پر مشتمل تھا جن میں سے ایک (مشرقی حصہ) واضح طور پر دوسرے کے مقابلہ میں عددی اکثریت رکھتا تھا۔ بنگالی لیڈر حسین شہید سہر وردی کی کوششوں سے پاکستان کے سابقہ دونوں حصوں میں سیاسی مساوات ( Parity ) قائم ہوگئی۔ صدر ایوب خاں کی بنیادی جمہوریت میں یہ مساوات ایک مسلمہ سیاسی اصول کے طور پر باقی رہی۔ اس کے مطابق مشرقی حصہ کے چالیس ہزار اور مغربی حصہ کے چالیس ہزار نمائندہ وٹر ملک کی حکومت کا فیصلہ کرتے تھے۔ مگر پاکستان کے رہنما اس نظام کے خلاف ہو گئے۔ انھیں صدر ایوب کو اقتدار سے ہٹانا تھا اور اس کی سب سے آسان تدبیر یہ تھی کہ عوام کو یہ کہہ کر ان کے خلاف بھڑکایا جائے کہ بنیادی جمہوریت قائم کر کے انھوں نے عوام کے سیاسی حقوق کو غصب کر رکھا ہے، اب پاکستان میں تحریک جمہوریت چلائی گئی ۔ بے پناہ نقصانات کے بعد بالآخر تحریک کامیاب ہوئی۔ صدر ایوب اور ان کی بنیادی جمہوریت دونوں ختم ہوگئے ۔ ۱۹۷۰ میں پاکستان کا پہلا عوامی انتخاب ہوا جس میں ہر بالغ کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی آبادی چونکہ زیادہ تھی، اس کے نمائندوں کی تعداد مرکزی اسمبلی میں زیادہ (٥٥ فی صد) ہو گئی۔ مساوات ٹوٹ گئی اور بنگلہ دیش نے پاکستان کے اوپر سیاسی بالاتری حاصل کر لی ۔
اب پاکستان کے رہنما بچ اٹھے۔ انھوں نے جمہوریت کے فتنہ کو یہ سمجھ کر جگایا تھا کہ وہ خود ان کو اقتدار تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی نہ اس لئے کہ بنگلہ دیش کے سیکولر لیڈر اس کو استعمال کر کے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو جائیں گے۔ انھوں نے چاہا کہ جمہوریت کو دوبارہ پابند جمہوریت “ بنائیں اور مشرقی اور مغربی حصہ میں مساویانہ نمائندگی
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues