Halde Edib, Turkey Faces West, P.84
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۶
ترکی کی یہ تاریخ ایک انتہائی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کس طرح حالات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے اور نتیجہ وقت کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ترکی کی تاریخ میں دو اور علامتی مثالیں بھی ہیں۔ ملی کام کے لئے جان دار کارکنوں کا نہ ملنا، اور تیاری کے بغیر اقدامات۔ جدید ترکی میں دو شخصیتیں علمی و فکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک نامق کمال (۱۸۸۸- ۱۸۳۰) دوسرے ضیاء گوک الپ (۱۹۳۶- ۱۸۷۵) دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرینچ زبانیں جانتے تھے۔ انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح اگرچہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے۔ اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامق کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے اور ترک اتحاد کے بجائے اسلامی اتحاد کے الفاظ بولتے تھے۔ مزید یہ کہ نامق کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالدہ ادیب خانم نے ان کے بارے میں لکھا ہے: نامق کمال ترکی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔ ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی :
Halde Edib, Turkey Faces West, P.84
دوسری طرف ضیاء گوک الپ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ اس کے فکری نظام میں اسلام بنیادی عامل کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس نے دعوت دی کہ ترکی کی تعمیر نو خالص قومی اور مادی بنیادوں پر کی جائے۔ وہ اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کا پرجوش علم بردار تھا۔
ترکی کی بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ترکی میں نامق کمال جیسے لوگوں کے افکار کو غلبہ نہیں ملا۔ بلکہ ضیا گوک الپ جیسے لوگ عملاً وہاں کی سیاست و قیادت پر چھا گئے۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ضیا گوک الپ کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمال اتاترک (۱۹۳۸- ۱۸۸۱) جیسا طاقتور اور مضبوط ارادہ کا آدمی مل گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ نامق کمال نے اگرچہ اپنی قوم کے ایک طبقہ میں مقبولیت حاصل کی۔ تاہم اپنے خطیبانہ ادب میں وہ جن خیالات کو پیش کر رہے تھے، ان کے اندر روایتی لوگوں کے لئے خواہ کتنی ہی اپیل ہو، جدید افکار کے عالمی سیلاب میں اس کی حیثیت ایک قسم کے رومانی خواب کی تھی۔ اصولی طور پر بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ اسلام کو اجتماعی اداروں کی بنیاد ہونا چاہئے ۔ مگر ایک ایسی دنیا میں جہاں علی طور پر سیکولر افکار کا غلبہ ہو، کوئی شخص اپنا علیحدہ جزیرہ تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ عمومی فکری فضا کو اس کے موافق بنا لیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues