Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 47

Halde Edib, Turkey Faces West, P.84

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۷

جدوجہد نام ہے اپنے آپ کو خدا کے منصوبے میں شامل کرنے کا ہندوستان میں مغربی قوموں کے لئے داخلہ کا راستہ سب سے پہلے واسکو ڈی گاما (۱۵۲۷-۱۳۶۰) نے پیدا کیا۔ اس کے بعد پرتگالی اور فرانسیسی قومیں اس ملک کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئیں۔ آخر میں انگریز آئے اور ڈیڑھ سو برس کے اندر انھوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا۔ مہند، پاکستان، بنگلہ دیش، سیلون، برما، تبت نیپال، سب انگریز کے جھنڈے کے نیچے آگئے۔ ہندوستان پر اپنے قبضہ کو دائمی بنانے کے لئے انھوں نے سوکنہ پر قبضہ کیا اور اس کے بیشتر حصے مہنگی قیمت پر خرید لئے۔

انگریزوں نے نہ صرف ہندوستان کی سیاست اور معیشت پر قبضہ کیا بلکہ یہاں کی سرکاری زبان بدل دی۔ تعلیمی نظام ایسا بنایا جس سے ایسی نسل پیدا ہو جو لارڈ میکالے کے الفاظ میں ”پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور خیالات کے اعتبار سے انگریز ہو۔ “ عیسائی مشنریوں نے حکومت کی مدد سے مسلح ہو کر پورے ملک کو عیسائی بنانے کا کام شروع کر دیا۔ اس طرح ایک ایسی حکومت جس کی وسعت اتنی زیادہ تھی کہ ” اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اپنے تمام وسائل اور تہذیبی طاقت کے ساتھ ملک کے اوپر چھا گئی اور اپنے اقتدار کو مستقل بنانے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو اس مادی دنیا میں اور وہ بھی آج کے ترقی یافتہ دور میں کوئی کر سکتا ہے۔ مگر اگست ۱۹۴۷ء کا انقلاب بتاتا ہے کہ بات وہیں ختم نہیں ہو جاتی جہاں کوئی اپنے طور پر اسے ختم سمجھ لیتا ہے۔ کوئی قوم خواہ کتنے ہی بڑے پیمانے پر دوسری قوم کے اوپر غالب آ جائے ، پھر بھی کچھ ایسے گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے جدوجہد کر کے دبی ہوئی قوم دوبارہ نئی زندگی حاصل کرے۔ پھر اس انقلاب ہی کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ کام محض جھنجھلاہٹ کے ساتھ سرگرمانے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے اور حریف کے اس نازک گوشہ کو تلاش کیا جائے جہاں سے مؤثر تجد و جہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے ــــــــــ خدا نے اپنی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ہر بار گرنے کے بعد اس کے بندوں کے لئے دوبارہ ابھرنے کا ایک نیا امکان باقی رہے ۔ مگر یہ امکان اسی کے لئے واقعہ بنتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے تیار ہو۔ جو اپنی خود ساختہ راہوں پر دوڑنا شروع کر دے ، اس کے لئے خدا کی اس دنیا میں ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ گھڑی کی سوئی بظاہر جہاں سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے وہ اس کا شیشہ ہے۔ لیکن گھڑی کی سوئی گھمانے کے لئے کوئی شخص اس کے شیشہ پر زور آزمائی نہیں کرتا بلکہ اس کی چابی پر اپنا ہاتھ لے جاتا ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ملت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمارے تمام لیڈر "گھڑی" کے شیشہ پر زور آزمائی کر رہے ہیں۔ خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ سوئی تو نہ گھومے البتہ غلط طریق عمل کی وجہ سے مسائل میں کچھ اور اضافہ ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page