Al-Risala · February 1978 · page 15

کلام نبوت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

WE RECOGNISE THE FORCES THAT SUPPORTED BHUTTO, THE BHUTTO CONSTITUENCY OF THE POOR PEA- SANTS AND WORKERS. THIS IS A CONSTITUENCY WHERE THE MARTIAL LAW CANNOT DO ANYTHING. IT IS A POLITICAL PHENOMENON AND IT IS FOR THE POLITICIANS TO WORK THERE, FOR POLITICAL EVOLUTION TO TAKE ITS NORMAL COURSE. WE ARE TRYING TO DO THAT. WE ARE TRYING TO EXPOSE BHUTTO FOR WHAT HE WAS. WE HAVE TO TELL THE POOR PEOPLE THAT THEY HAVE BEEN MISLED. The Times of India 14.1.1978 ہم کو ان طاقتوں کا اندازہ ہے جنھوں نے بھٹو کی مدد کی تھی ۔ یہ بھٹو کا وہ حلقہ ہے جو غریب کسانوں اور مزدوروں پر مشتمل یہ ایک ایسا حلقہ ہے جہاں مارشل لا کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک سیاسی ظاہر ہے اور یہ سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں کام کریں، تاکہ سیاسی ارتقاء ہو اور سیاست اپنے نارمل راستہ پر آسکے۔ ہم اس وقت یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم بھٹو کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کیا تھے۔ ہم کو غریب عوام کو بتانا ہے کہ ان کو غلط رہنمائی دی گئی تھی۔ پاکستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ولی خاں مزید کہتے ہیں : اب تک تین عوامی نعرے استعمال ہوئے ہیں: پہلا ایک اقتباس ڈاکٹر الطاف حسن قریشی (ایڈیٹر اردو ڈائجسٹ لاہور) نے 7ستمبر1977 کو پاکستان کے فوجی حکمران جنرل محمد ضیاء الحق سے انٹرویو لیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب جنرل محمد یحیی خاںنے اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل ہیڈ کوارٹرز میں پہلی پریس کانفرنس کی تھی تو وہ ٹی وی کیمروں پر بری طرح برسے تھے اور کہا تھا کہ مجھے پبلسٹی کا ذرا بھی شوق نہیں۔ مگر چند ہی روز بعد اخبارات میں ان کی بڑی بڑی تصویریں شائع ہونے لگیں “ ڈاکٹر الطاف حسن قریشی یہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ”مگر جنرل ضیاء الحق کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ پکا پاخ کے منکسر المزاج انسان ثابت ہوئے ہیں“ ڈاکٹر قریشی کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا ”کیا آپ فوجی قوت کے بل بوتے پر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں “ جنرل ضیاء الحق نے جواب دیا:

”نہیں ہرگز نہیں۔ میں تو جمہوریت پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہوں۔ ہم اقتدار پر قابض رہنے کے لئے نہیں اقتدار منتقل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ عام انتخابات انشاء اللہ ۱۸ مقدس نعرہ تھا: پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ پھر دوسرا نعرہ آیا: روٹی کپڑا اور مکان۔ ان دونوں کا نقصان قوم اٹھا چکی ہے۔ اب ہمارا نعرہ ہے: "نظام مصطفیٰ" ہے۔ ہم کو بتانا ہوگا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اور عوام کو مطمئن کرنا ہوگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کا اقتصادی اور سماجی حق ملے۔ ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایک متعین اقتصادی پروگرام ہو۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ ہم بھٹو کے حلقہ اثر میں کام کر سکتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۷۷ء کو ضرور منعقد ہوں گے۔ خدا کے ساتھ اور پوری قوم کے ساتھ میں نے ایک عہد باندھا ہے اور اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا “ اگلا سوال "اگر انتخابات کے نتائج برے برآمد ہوئے تو پھر بھی کیا اقتدار منتقل کر دیا جائے گا" "میں کون ہوتا ہوں یہ فیصلہ کرنے والا کہ نتائج اچھے ہیں یا برے۔ عوام جو بھی فیصلہ دیں، ہم اس کے پابند رہیں گے" اردو ڈائجسٹ لاہور۔ ستمبر 1977 ، صفحہ ۲۰

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page