Al-Risala · February 1978 · page 14

کلام نبوت

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

خاں عبدالولی خاں ۴ ماه جیل میں رہنے کے بعد اس شان سے باہر آئے ں کہ اچانک وہ پاکستان کی سیاسیات میں قومی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ پاکستان کے اکثر سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ بھٹو کے سیاسی منظر سے ہٹنے کے بعد اب خان عبدالولی خاں واحد شخصیت ہیں جو قومی قیادت کا خلا پُر کر سکتے ہیں۔ حکومت نے ان کو بھٹو کے مشہور ہوائی جہاز شاہین (FALCON) پر سفر کرنے کا موقع دیا ہے، وہ پورے ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے اس جہاز میں سفر کیا تو مجھ کو معلوم ہوا کہ اس کے غسل خانہ کے ٹیپ گولڈ پلیٹڈ (سنہرے) ہیں ۔

خان عبدالولی خان کو میدان سیاست میں لانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ "بھٹو ازم" کو ختم کیا جائے۔ خان ولی خان کا ایک انٹرویو حال ہی میں سرکاری اخبار پاکستان ٹائمز میں چھپا ہے، وہ کہتے ہیں " مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ میری موجودہ پوزیشن کو مسٹر بھٹو کی ۱۹۷۰ کی پوزیشن کے مانند قرار دے رہے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ بھٹو نے اقتدار کی کرسی پر پہنچنے کے لیے یحییٰ حکومت سے سازش کی تھی۔ جب کہ ہم ملک کو بچانے کے لیے موجودہ فوجی حکومت سے تعاون کر رہے ہیں۔ ہم اقتدار نہیں چاہتے۔ ہم کو عہدے اور کرسی کا شوق نہیں ہے۔ یہ ہمارا راستہ نہیں ہے ۔ پہلے بھٹو کا پیدا کردہ فاشزم ختم ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد الیکشن ہونا چاہئے۔

تاہم اس کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ بھٹو نے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں جو خرابیاں پیدا کیں وہ ایک علیحدہ چیز ہیں اور عوام کو جس طرح گمراہ کیا، وہ علیحدہ چیز۔ دوسرا مسئلہ ایک خالص سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کو سیاسی طور پر حل کیا جا سکتا ہے ۔

نیشنل ہیرلڈ (۱۲ مارچ، ۱۹۷۱)

نے یہ کارٹون شائع کیا تھا اس کا عنوان تھا "سنیاس"

اور اس کے نیچے لکھا ہوا تھا : بستر ہو گانے کے کیپارا آنکھوں نے اور دوسرے لیڈروں نے کانگریس کو اس لیے نہیں چھوڑا ہے کہ وہ حکومت حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page