چند واقعات
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۷
اعلان کر کے جرمنی کی حکومت پر قبضہ کرلیتے ۔ مگر ٹائم بم اس وقت پھٹا جب کہ شلر کیمپ سے بابر آچکا تھا۔ ہم نے بھمبر سے ڈاک بنگلہ میں دن کا کھانا کھایا اور ۱۰ بجے رات کو تمبوں پہنچے۔ اس کے بعد جیسا کہ طے تھا ، ۲۱ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں کشمیر کے وزیر اعظم مسٹر مبر چند مہاجن تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب " لوکنگ بیک " (LOOKING BACK) میں الحاق کی کہانی بتاتے ہوئے لکھا ہے: پاکستان کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر کو اور مجھ کو اغوا کر لیا جائے اور سنگین کی نوک پر ہم سے الحاق کے مسودہ پر جبری دستخط کرا لئے جائیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہم کو بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں اس وقت گرفتار کر لیا جائے جب کہ ہم دالاپانچ کھا رہے ہوں۔ بھیم بر بالکل پاکستان کی سرحد پر ہے اور کشمیر کو جانے والی مشہور مغل روڈ پر واقع ہے۔ اس روڈ کے ایک طرف کشمیر ہے اور دوسری طرف پاکستان۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ۲۰ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو کٹھوعہ کا دورہ کریں گے اور ۲۱ کو بھیم بر اور میر پور کی طرف جائیں گے۔ پاکستان کے لوگوں نے ایک ہتھیار بند موٹر تیار کر رکھی تھی جو ۲۱ کو ہماری گرفتاری کے لئے بھیم بر پہنچنے والی تھی۔ مگر واقعات کی ایک غیر متوقع کر وٹ نے ہم کو بچا لیا۔ ۲۰ اکتوبر کی صبح کو جب ہم کٹھوعہ کے لئے روانہ ہوئے اور ایک چورستہ پر پہنچے ، جہاں سے ایک سڑک کٹھوعہ کی طرف اور دوسری اکھنور اور بھیم بر کی طرف جاتی تھی ، مہاراجہ نے اچانک جیپ ڈرائیو کو ہدایت کی کہ وہ کٹھوعہ کے بجائے گاڑی کو بھیم ہر کی طرف موڑ دے۔ میں نے عرض کیا ، کٹھوعہ میں سرکاری افسران اور عوام ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اور بھیم ہر کے لئے ہم نے کوئی پروگرام نہیں بھیجا ہے اور اس وقت وہاں کوئی انتظام نہیں ہوگا۔ مہاراجہ نے میری گزارش کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ وہ کسی پروگرام کے پابند نہیں۔ اس لئے ہم اکھنو راوربھیم بر کی طرف روانہ ہوئے اور سہ پہر کو بھیم ہر پہنچے کو بھیم برکا ڈاک بنگلہ گھیرلیا گیا۔ ہم اس سازش کا شکار ہوجاتے، اگر ہم نے اصل پروگرام کے مطابق سفر کیا ہوتا۔ مہاراجہ کی پیش اندیشی نے ہم کو پاکستان کے قبضہ میں جانے سے بچالیا۔“ ۵۔ چین کے سابق وزیر اعظم مسٹر چو این لائی (۱۹۶۷ء۔ ۱۸۹۸ء) نے اپنی موت سے صرف چند دن پہلے شمالی ویت نام کے ایک کمیونسٹ لیڈر سے اسپتال میں ملاقات کی تھی۔ دونوں کمیونزم کے بعض فکری پہلوؤں پر بحث کرتے رہے۔ جب ویت نامی لیڈر جانے لگا تو چاؤ نے ہنس کر کہا: ”اب میں اس مسئلہ کو خود کارل مارکس سے سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ کیونکہ چند ہی دن میں میں اس کے پاس جانے والا ہوں“ اور فی الواقع اس کے چند دن بعد ۹ جنوری کی شام کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ۶۔ چنگیز خان کے پوتے قبلائی خاں (۱۲۹۴ء۔ ۱۲۱۶ء) نے ۱۲۸۱ء میں جاپان پر حملہ کیا۔ اس نے ایک عظیم جنگی بیڑہ تیار کر کے ان جزائر کو فتح کرنے کے لئے روانہ کیا۔ اس وقت جاپان ایشیا کے ایک کمزور ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ قبلائی خاں جیسے فاتح کی فوج سے مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں بالکل نہیں تھی، تاہم ان کو اپنے خداوند (آفتاب) پر بھروسہ تھا جس کی وہ اپنے کو اولاد کہتے ہیں۔ جیسے ہی خطرہ کا احساس ہوا، ان کا مذہبی پیشوا اٹھا اور لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ سب لوگ دعائیں مانگھ انھوں نے رات دن اپنے دشمن کے مقابلہ میں اپنے خدا کو پکارنا شروع کیا۔ ابھی قبلائی خاں کی فوج جاپان کے ساحل پراتری بھی نہ تھی کہ زبردست سمندری طوفان آیا اور تمام بحری بیڑہ سمندر کا مونا اور بردارم غارت ہوگیا۔ لِپیری، تہذیبِ جدید، مادی تمدن، لادینیت وغیرہ کا یہ طوفان بھی دنیا کو ڈکڑے ڈکڑے روس و چین کے تعلقات میں خوشگواری، اقتصادی تعاون کا نیا دور
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues