چند واقعات
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۶
چند واقعات
۱۔ اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نہایت خوبصورت اور وجیہہ شخص تھا ایک روز اس نے سبز جوڑا پہنا اور سبز عمامہ باندھا۔ پھر اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھ کر بولا "میں ایک جوان بادشاہ ہوں۔ " اتنے میں اس کی ایک کنیز اس کی طرف دیکھنے لگی۔ سلیمان نے پوچھا تو کیا دیکھ رہی ہے۔ اس نے جواب میں یہ اشعار پڑھے:
انت نعم المتاع لوكنت تبقى غير ان لا بقاء للانسان ليس فيما علمته فيك عيب كان في الناس غير انك فان ترجمہ: تو بہترین سرمایہ ہے، کاش تجھے بقانصیب ہوتی، مگر انسان کے لئے بقا نہیں جہاں تک مجھے علم ہے، تجھ میں کوئی عیب نہیں جو لوگوں میں پایا جاتا ہو، بجز اس کے کہ تو فانی ہے۔ اس واقعہ پر ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سلیمان کا انتقال ہو گیا۔ یہ واقعہ ۱۰ صفر ۹۹ھ کا ہے۔ اس نے تقریباً پونے تین سال حکومت کی اور ۴۵ سال کی عمر پائی۔
۲۔ مصر کے فرعون (TUTANKHAMEN) کا مقبرہ ۱۹۲۳ء میں کھولا گیا۔ مصری علوم کے ماہر لارڈ کارنارون (CARNARVON) مقبرہ کے اندر داخل ہوئے تو فوراً بیمار پڑ گئے اور چند ہفتے کے اندر مرگئے۔ اس کے کچھ دنوں بعد آر تھر میں (ARTHUR MACE) اور جارج بینیڈائٹ (GEORGE BENEDITE) مقبرہ میں گئے، وہ دونوں بھی چند دنوں بعد اچانک مرگئے۔ یہ واقعہ جب عوام میں مشہور ہوا تو انھوں نے کہا کہ یہ لوگ فرعون کی لعنت سے ہلاک ہوئے۔ (بعد کو ڈاکٹر جارج ڈین نے مقبرہ میں تین مہینے تک کام کیا۔ انھوں نے تحقیق کرکے بتایا کہ ہزاروں برس سے ابابیلیں اس مقبرہ کو اپنا گھونسلا بنائے ہوئے تھیں۔ ان کے بیٹ کی بدبو سے مقبرہ بھر گیا تھا۔ مذکورہ افراد اس سخت بدبو میں سانس لینے کی وجہ سے ہلاک ہوئے)
۳۔ کرنل اسٹافن برگ (STAUFFENBERG)
نے ہٹلر کے خلاف نہایت کامیاب منصوبہ بنایا تھا۔ جولائی ۱۹۴۴ء میں اس نے ایک بریف کیس میں ایک ٹائم بم رکھ کر ہٹلر کے کیمپ ہیڈ کوارٹر میں پہنچا دیا۔ اگر بروقت یہ بم پھٹ گیا ہوتا تو برلن میں مقیم تھوڑے سے جرمن فوجی افسر ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کرلیتے اور نازی لیڈر کے خاتمہ کا اس قسم کے واقعات بزرگی کا ثبوت نہیں سکھ دیو پر شاد بسمل الہ آبادی - ۱۸۹۳ء) اردو کے شاعر تھے۔ ۲۳ نومبر کو انھوں نے ایک غزل لکھی جس کا شعر تھا :
بسمل آیا ہے اکیلا بسمل جائے گا اکیلا اگلے روز ۲۴ نومبر 1975 کو ان کا انتقال ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues