Al-Risala · March 1979 · page 4

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴

اس کی سوچ، اس کا اخلاق، اس کے معاملات، سب اللہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ وہ اپنے اندر یہی وجود میں قلب سلیم (شعراء (۸۹) اور خارجی سلوک میں قائم بالقسط نساء ۱۳۵) کا مصداق بن جاتا ہے۔ یہی دین اسلام ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو سکھانے کے لئے قرآن اتارا گیا۔

قرآن کو قلم کے ذریعہ کتاب کی صورت میں لکھوا کر انسان کے حوالے کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اہتمام تھا کہ وہ کسی ادنی تبدیلی کے بغیر اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔ قرآن آج مکمل طور پر محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس کے ماننے والے بھی بے شمار تعداد میں دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ مگر قرآن والی زندگی عملاً کہیں نظر نہیں آتی۔ قرآنی امکانات اسی طرح بند حالت میں پڑے ہوئے ہیں جس طرح چند سو سال پہلے بھاپ اور بجلی کی طاقتیں بند پڑی ہوئی تھیں ۔ ایسا کیوں ہے۔ اس سوال کے جواب کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا، جب تک خدا کی سنت امتحان کو سامنے نہ رکھا جائے موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں قرآن کو ماننے والے اور قرآن کو نہ ماننے والے دونوں اپنا اپنا امتحان دے رہے ہیں۔ دونوں قسم کے لوگوں کو یکساں طور پر آزادی حاصل ہے۔ کوئی شخص قرآن کا انکار کر کے گمراہ ہونا چاہے تو اس کو بھی پوری آزادی ہے۔ اور کوئی قرآن کو مان کر عملاً قرآن کے خلاف چلنا چاہے تو اس کے لئے بھی راستہ کھلا ہوا ہے۔ قرآن کو نہ ماننا کسی کے بچاؤ کے لئے عذر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح قرآن کو مان لینا کسی کو حالت امتحان سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ موجودہ دنیا میں جس طرح قرآن کو ماننے یا نہ ماننے کی آزادی ہے۔ اسی طرح اس کو مان کر اس کی تعلیمات پر چلنے یا نہ چلنے کی آزادی بھی ہرایک کو ملی ہوئی ہے۔ ایک گروہ قرآن کا انکار کر کے جس طرح اپنی گمراہیوں کے لئے آزاد ہے۔ دوسرے گروہ کو اسی طرح قرآن کا نام لیتے ہوئے قرآن کے خلاف عمل کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ مسلم قوم بھی خدا کی عدالت میں جانچ کی ٹھیک اسی سطح پر کھڑی کی گئی ہے جہاں دوسری غیر مسلم قو میں کھڑی ہوئی ہیں:

ان الذین آمنوا الذین ہادوا والنصاری یوں ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوکر والصبتين من آمن بالله والیوم الآخر اور نصاریٰ اور صابئین، جو کوئی یقین لایا اللہ پر اور وعمل صالحاً فلھم اجرھم ولا خوف پچھلے دن پر اور کام کیا نیک تو ان کو ہے ان کی مزدوری علیھم ولا ھم یحزنون (بقرہ (۶۲) اپنے رب کے پاس۔ اور نہ ان کو ڈر ہے اور نہ غم کھاویں (ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی)

جب تک اللہ کی سنت باقی ہے، یہ امکان بھی باقی رہے گا کہ کوئی گروہ قرآن داسلام کا نام لے اور عملاً اس طرح رہے گویا قرآن اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ حتیٰ کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آزادی یہاں تک ہے کہ ایک شخص قرآن کے عالم اور مفسر کی حیثیت سے نمایاں ہو۔ دنیا کی زندگی میں وہ دین خداوندی کا چیمپین بنے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی دینی قیمت نہ ہو۔ وہ آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ دھکیل دیا جائے جنہوں نے قرآن کو سرے سے مانا ہی نہ تھا، جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ (۱۹ جنوری ۱۹۷۹)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page