Al-Risala · March 1979 · page 3

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس کا بر تر ادب، اس کے بلند مضامین، اس کی ابدی تعلیمات، اس کا اختلاف تضاد سے خالی ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ خدائی ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ قرآن میں ہدایت کا سامان ہے۔ وہ انسان کی اس تلاش کا جواب ہے کہ وہ زندگی کی معنویت کو سمجھ سکے۔ اس کی فطرت جس رہنمائی کو مانگ رہی ہے، قرآن میں وہ اس کو واضح اور مکمل صورت میں پالیتا ہے۔ قرآن اس کے تمام اندرونی سوالات کا جواب ہے۔ مگر یہ ہدایت کسی کو اپنے آپ نہیں مل جاتی۔ اس کو وہی شخص پا تا ہے جس کے اندر حقیقی طلب کا مادہ ہو۔ جو یہ غیر علمی اصرار نہ کرے کہ وہ آنکھ سے دیکھ کر ہی کسی بات کو مانے گا۔ بلکہ وہ بصیرت سے سمجھ میں آنے والی باتوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہو۔ جو حقیقت اعلیٰ (خدا) کے آگے جھک کر اس بات کا ثبوت دے کہ وہ مصنوعی خود پرستی سے پاک ہے۔ جو اپنی کمائی میں دوسرے کا حصہ لگا کر یہ ظاہر کرے کہ اپنی ذات سے باہر پائے جانے والے تقاضوں کو ماننے کے لئے اس کا سینہ کھلا ہوا ہے۔ جو انسانی محدودیت کا اقرار کرتے ہوئے خارجی ہدایت کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہو۔ جو اس سوال کو اہمیت دے کہ موجودہ دنیا کا نامکمل ہونا ایک زیادہ مکمل نظام عالم کی تشکیل کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ طلب صادق کی علامتیں ہیں۔ ایسے ہی طالبین کے حصہ میں ہدایت آتی ہے اور وہی اس کائنات میں فلاح کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں (بقرہ ۱-۵)

اسلامی زندگی کا آغاز ایمان سے ہوتا ہے۔ ایک شخص کو جب اس بات کی پہچان ہو جائے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور رب اللہ ہے۔ وہ اُس کو اس طرح اپنے شعور کا حصہ بنالے کہ اللہ ہی اس کا سب کچھ بن جائے وہ اسی پر بھروسہ کرے۔ اسی سے امید رکھے۔ اسی سے خوف کھائے۔ اپنی زندگی کو ہمہ تن اسی کے رخ پر ڈال دینے کا فیصلہ کرلے تو اسی کا نام ایمان ہے۔

ایمان کے بعد چار عبادتوں کو اسلام میں ارکان کا درجہ حاصل ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج۔ یہ چاروں عبادتیں اسلام کے ارکان بھی ہیں اور اسلام کے مطلوب اوصاف کی علامات بھی۔ نماز اللہ کی قربت تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ روزہ صبر کی تربیت ہے۔ زکوٰۃ یہ پیغام دیتی ہے کہ بندوں کے عملی خیر خواہ بن کر رہو۔ حج اسلامی اتحاد کا عالمی سبق ہے۔ یہی چار چیزیں اسلام کا خلاصہ ہیں۔ بندہ مومن سے اولاً یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے رب کی یاد میں ڈوبا رہے۔ وہ زندگی کے کسی موڑ پر اس کے تصور سے خالی نہ ہو۔ پھر جس دنیا میں آدمی کو دیندار بن کر رہنا ہے، وہاں بہت سے دوسرے لوگ ہیں۔ ان کی طرف سے بار بار تکلیف کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگر آدمی اپنے سوا دوسروں کے اعتراف کا مزاج نہ رکھتا ہو۔ اگر وہ دوسروں کو برداشت کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ مل کر چلنے کے لئے تیار نہ ہو تو موجودہ دنیا میں وہ حق کو کامیابی کے ساتھ طے نہیں کر سکتا۔ یہ ایمان اور عبادت اگر حقیقی طور پر آدمی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے اندر وہ خدا پر ستانہ زندگی ابھرتی ہے جو مالک کائنات کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ دنیا میں اس کی ہستی کا ظہور حق اور عدل کا ظہور بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page