وہ لوگ جو سوشہیدوں کا اجر پائیں گے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۶
اس کو ماننا اپنے آپ کو جے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لئے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کے شنہ سواریا سلام ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اس شخص کو اتنی بے شمار فتوں اور مشکلات میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اس کے مقابلہ میں ایک دن میدان جنگ میں لڑ کر مرجانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت ان قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت کا راز صحیح دین کا علم بردار بننا نہیں ہوتا۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی کسی ادارہ کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقرییوں میں خطابت کا جوہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر ان کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں۔
صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لئے چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصہ تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو ان کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعاظم کا کبر ہی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لئے انتہائی شدید مسائل پیدا کردیتی ہے۔ وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرات ہوتی ہے۔ بالا خر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لئے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں فساد امت کے وقت سنت رسول کو زندہ کرنے کے لئے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے ، اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے کو ملیامیٹ کرنے کے لئے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں، بر بادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلاشبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اس کی اعلی سطح پر اس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ وما يلقها الا الذين صبروا وما يلقها الا ذو حظ عظیم (حم سجده ۳۵)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues