Al-Risala · March 1979 · page 7

ایک واقعہ دو انجام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۷

ایک واقعہ دو انجام

تیرھویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان سیاسی طاقت، تمدنی ترقی اور علوم و فنون میں دنیا کی تمام قوموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ یورپ نے طے کیا کہ اس کو عربی پڑھنی ہے اور مسلمانوں کے علوم سیکھنے ہیں۔ یہی فیصلہ تھا، جو پندرہویں صدی کے اس عظیم واقعہ کا سبب بنا جس کو دنیا یورپ کی نشاة ثانیہ (Rennaissance) کے نام سے جانتی ہے۔ مسلمانوں کے علوم سیکھ کر اور ان میں اضافہ کرکے یورپ اتنا طاقت ور ہوگیا کہ نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ساری دنیا پر چھا گیا۔

اس واقعہ کے پانچ سو برس بعد یہی صورت حال برعکس شکل میں مسلمانوں کے سامنے تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ یورپ سیاست و تمدن اور علوم و فنون میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ان کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپی زبانیں سیکھیں اور یورپ کے علوم کو حاصل کریں۔ مگر یہاں نتیجہ برعکس نکلا۔ یورپی طرز کی تعلیم نے ہم کو یورپ کا ذہنی غلام بنا دیا۔ ہم اپنے علیحوہ قومی وجود کو بھول کر یورپ کے رنگ میں رنگ گئے ۔ ایک ہی نوعیت کے دو واقعات میں انجام کا یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا جواب ذہنیت کے اس فرق میں ہے جو دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔ یورپ نے ہمارے علوم کو اس جذبہ کے تحت سیکھا تھا کہ وہ ہمارے ہتھیاروں سے ہم کو شکست دے سکے۔ اس کے برعکس ہم یورپی علوم کی طرف اس لئے بڑھے کہ ہم اس کے نقال بن کر اس کی نظروں میں با عزت ہو جائیں۔ اور جہاں ذہنیت میں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں انجام میں فرق پایا جانا لازمی ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال تک دنیا میں وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو آج روس یا امریکہ کو حاصل ہے۔ اس وقت جب کہ یورپ پر ابھی قرون مظلمہ (Dark Ages) کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، عرب مسلمان ایک شان دار تہذیب کو وجود میں لا چکے تھے۔ اور اپنی تحقیقات اور یونانی اور دوسرے علوم کے ترجموں کی مدد سے سائنس اور فلسفہ میں دنیا کی امامت کر رہے تھے، اس وقت مسلمان ساری دنیا میں علم اور تہذیب کے تنہا مالک تھے۔ عربی زبان دنیا کی واحد علمی زبان تھی اور ساری دنیا کے لوگ علوم و فنون کے اکتساب کے لئے مسلم مرکزوں دمشق، بغداد، قرطبہ، غرناطہ) کا اسی طرح سفر کرتے جیسے آج لوگ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جاتے ہیں۔ بارھویں اور تیرھویں صدی میں جب کہ مسلمانوں کی طاقت عروج پر تھی اور دہ عرب سے بڑھتے بڑھتے فرانس تک پہنچ گئے تھے اس وقت یورپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید ترین جنگ چھیڑ دی اور گیارھویں صدی کے آخر (۱۰۹۶) سے لے کر تیرھویں صدی کے آخر تک دو سو برس پورا یورپ مسلمانوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑتا رہا۔ یہ جنگ جو صلیبی لڑائیوں (Crusades) کے نام سے مشہور ہے، بالآخر یورپ کی مکمل ناکامی پر ختم ہوئی ۔ مگر یورپ نے ہمت نہیں ہاری۔ اب اس کے اندر ایک نیا رجحان ابھرا۔ صلیبی جنگوں کے درمیان اہل یورپ کو تجربہ ہو گیا تھا کہ مسلمان علم اور سائنس میں اُن سے بہت آگے ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجیے جب مصری فوج نے منجنیقوں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page