Al-Risala · March 1979 · page 10

حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰

حضرات نے ساری توجہ صرف اس پر دی کہ ایک ایسا گروہ پیدا ہو جائے، جو مغربی تمدن اور یورپی ادب میں کمال حاصل کئے ہوئے ہو۔ کمال آتاترک کا نام نہاد انقلاب اور روس کے اشتراکی انقلاب میں صرف چند سال کا فرق ہے، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ روس آج خلا میں راکٹ پھینک رہا ہے اور ترکی ابھی تک مغربی مصنوعات کا گو دام بنا ہوا ہے۔

یورپ جس ذہن کے تحت ہمارے علوم کی طرف بڑھا تھا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ان کے علوم اور ان کے ہنر کو لے کر اس کے ذریعہ سے انہیں شکست دی جائے۔ ان چیزوں کو اس نے وقت کی طاقت سمجھا اور اس کو اپنے دشمن کے مقابلہ میں استعمال کیا۔ چنانچہ اپنی اس مہم کو یورپ نے "تقلید مشرق" یا "تقلید مسلم" کا نام نہیں دیا بلکہ اس کو روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ صلیبی لڑائیوں کی ہاری ہوئی بازی کو نئی تکنیک سے کامیاب بنایا جائے۔ اور جب اس کوشش سے وہ اپنے کو ایک نئے انقلاب تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کو انھوں نے یہ حیثیت دی گویا انھوں نے خود اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کی ہے۔ چنانچہ یورپ میں اس نئے انقلاب کا تاریخی نام نشاۃ ثانیہ (Renaissance) رکھا گیا ہے۔ یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ۔ نیا جنم (Rebirth) گویا یہ کوئی غیر سے حاصل کی ہوئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ یورپ کی اپنی ہی متاع ہے جو اس نے دوبارہ پائی ہے۔ یورپ نے لیتے وقت اگرچہ ان علوم کو مسلمانوں سے لیا تھا، مگر اس نے حال کی کڑی کو حذف کر کے اس کا رشتہ ماضی سے ملایا اور اس کو مغرب کے ایک ملک۔ یونان۔ کی چیز قرار دے کر اس کو نشاۃ ثانیہ کہا۔ اس کے برعکس ہم نے ایسا نہیں کیا، حالاں کہ یورپ جو چیز ہمیں دے رہا تھا وہ اضافہ شدہ حالت میں وہی سرمایہ تھا جو یورپ کو ہم نے عطا کیا تھا۔ مسلمان مغربی علوم کی طرف خالص تقلیدی ذہن کے ساتھ بڑھے ان کا یہ عمل سرسید کے یہاں "پیروی مغرب" اور آتاترک کے یہاں "غرب دو غرو" کے ہم معنی تھا، ذہنیت کے اس فرق کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ یورپ ہمارے علوم کو سیکھ کر ہمیں شکست دے اور اس کے برعکس ہم مغرب کے علوم کو سیکھ کر صرف مغرب کے بھونڈے نقال بن کر رہ جائیں۔

مصطفی کمال کی تحریک کا آخری نشانہ یہ تھا کہ ترک قوم ہیٹ اور پتلون پہننے لگے۔ اور سرسید کا منتہائے نظر یہ تھا کہ مسلم نوجوان مغربی ادبیات میں کمال حاصل کر لیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذہن کے تحت مغرب کی طرف بڑھنے کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو عملاً برآمد ہوا۔

یہ تاریخ جہاں ایک طرف ہماری غلطی کو بتاتی ہے وہیں اس کے اندر اس کا بھی نشان ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ ہمیں وہی کرنا چاہئے جو مغربی قوموں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مغربی علوم کو اس لئے سیکھنا تا کہ اس کے ذریعہ مغربی تہذیب کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے۔ اگر ہمارے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہی نتیجہ برعکس شکل میں ظاہر ہو گا جو مغربی قوموں کے لئے ہمارے مقابلہ میں ظاہر ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page