جب زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱
جب زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے
یہود و نصاریٰ کے یہاں رواج تھا کہ جب ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا یا کسی نئے آدمی کو اپنے دین میں داخل کرتے تو اس کو خاص قسم کے زرد رنگ میں غوطہ دیتے۔ اس رنگ میں رنگنا ان کے نزدیک آدمی کے خدا پرست اور نجات یافتہ ہونے کا نشان تھا۔ قرآن میں کہا گیا کہ اس قسم کا ظاہری رنگ چڑھا لینے سے کچھ نہیں ہوتا، اپنے باطن کو "رنگین" بنانے کی کوشش کرو:
صبغۃ اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ (بقره ۱۳۸) اللہ کا رنگ، اور اللہ سے بہتر کون رنگ ہے۔ گویا دین کسی ظاہری رنگ کا نام نہیں بلکہ معنوی رنگ کا نام ہے۔ وہ دین جو اعضاء جوارح کی سطح پر اٹکا ہوا ہو، جو رسمی عملیات کو دہرانے کے ہم معنی ہو۔ جو آدمی کے لئے خارجی امور میں بحث و مباحثہ کا موضوع ہو، جو دوسروں کے خلاف شور و غل کا پرو گرام دیتا ہو۔ جو جلسوں اور جلوسوں اور اخباروں کی سطح پر نمایاں ہونے کا عنوان ہو، وہ گویا ظاہری اصطباغ کا دین ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے جسم کو اوپر سے "زرد رنگ" میں رنگ لیا اور اندر کا حقیقی وجود بدستور بے رنگ پڑا رہا۔
اصل دین وہ ہے جو آدمی کے اندر ہل چل پیدا کر دے، جو آدمی کے دل و دماغ میں آگ لگانے والا ہو۔ جو آدمی کے اندرونی وجود کو خدا کے رنگ میں رنگ دے۔ پہلی قسم کا دین آدمی کے اوپر اوپر رہتا ہے۔ جب کہ اصل دین آدمی کی حقیقی ہستی میں شامل ہو جاتا ہے۔ پہلی قسم کے دین میں ایک شخص کچھ چمکدار دکھا کر یا بعض عملیات کر کے سمجھتا ہے کہ وہ دیندار بن گیا۔ جب کہ اصل دین اس کے اندرونی احساسات سے لے کر اس کی آنکھ اور زبان اور ہاتھ اور پاؤں تک جگر طاری ہو جاتا ہے۔ وہ اس کو بالکل دوسرے قسم کا انسان بنا دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے دین میں آدمی کی اصل ہستی اور اس کا دین دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ جب کہ اصل دین میں دونوں ایک دوسرے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ نہ دین اس سے جدا رہتا ہے اور نہ وہ دین سے۔
صحیح مذہب وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں اسی طرح شامل ہو جائے جیسے پانی میں رنگ شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ مذہب بناوٹی مذہب ہے جو آدمی کی اپنی زندگی سے باہر باہر نجات کے عملیاتی راستے بتائے۔ خواہ وہ سیاسی عملیات ہوں یا نام نہاد روحانی عملیات۔
علمائے نفسیات ذہنی اختلال کے وقت آدمی کے لاشعور کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اسی طرح اوپری رنگ اور حقیقی رنگ کو جاننے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ کوئی ایسا نا خوش گوار واقعہ پیش آئے جس سے آدمی کے نفس کو چوٹ لگے۔ اگر وہ سچا ہے تو ایسے وقت اس کے اندر سے تواضع ابھرے گی کیونکہ خدا پرستی کی حقیقت تواضع ہے۔ اس کے برعکس اگر جھٹکا لگنے کے وقت اس کے اندر نفرت، کبر اور انانیت ابھرے تو سمجھ لیجئے کہ اس کا دین محض اوپری رنگ کا دین تھا جو معمولی آنچ لگتے ہی اڑ گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues