Al-Risala · March 1979 · page 13

جب زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳

یحییٰ سید کا ایک مضمون اخبار ڈان کراچی (۱۰ ستمبر ۱۹۷۹ء) میں چھپا ہے۔ وہ اپنے لندن کے سفر کے تاثرات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں۔ مجھے اپنے آنکھ اور کان پر یقین نہیں آرہا تھا۔ میں برٹش ٹیلی وژن پر بچوں کے سوال وجواب کا پروگرام دیکھ رہا تھا۔ "اسلام کا پہلا خلیفہ کون تھا‘‘، سوال کرنے والے مسٹر کیتھ میکلن نے پوچھا۔ ایک غیر مسلم انگریز لڑکی نے بالکل صحیح جواب دیا۔ اس نے پھر مختلف فقہی مکاتب کے بارے میں سوالات کئے اور دوبارہ ایک انگریز لڑکا نہایت صحیح جواب دیتا رہا۔ یہ سب لڑکے لڑکیاں، ۱۰ سال اور ۲۰ سال کے درمیان کی عمر والے تھے۔ سوال کرنے والے نے پوچھا: کربلا میں کون شہید ہوا۔ جوابات صحیح تھے صرف اس فرق کے ساتھ کہ لڑکی نے حسین کے بجائے حسن کا نام لیا۔ آخر میں اعلان ہوا تو معلوم ہوا کہ ٹونی اسکاٹ نے پورے نمبر پائے۔ ٹیلی وژن پر اس قسم کے اسلامی پروگرام کو دیکھنے والوں کی تعداد یہاں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایک سال پہلے تک اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

مسٹر احمد ٹامسن ایک انگریز نومسلم ہیں۔ یہ ’’برٹش صوفی‘‘ حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو ایک انگریز نو مسلم ” صوفی عبد القادر “ نے قائم کیا ہے ان لوگوں نے انگلستان میں ایک مسلم بستی بنائی ہے جس میں چالیس سے اوپر نو مسلم انگریز رہتے ہیں۔ مسٹر احمد ٹامن نے کہا کہ اسلام دوبارہ دنیا کی طاقت بننے والا ہے ۔ انھوں نے یورپ میں اسلام کے پھیلنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسپین میں جب جنرل فرینکو کا انتقال ہوا تو دو اسپینی باشندے صوفی عبد القادر کے پاس آئے۔ انھوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک سال تک انگلستان میں رہ کر انھوں نے اسلام کی تعلیمات کو سیکھا۔ اس کے بعد وہ اسپین گئے اور وہاں قرطبہ میں اسلامک سنٹر قائم کیا۔ ان کی کوششوں سے اب تک پچیس اسپینی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ انھوں نے قرطبہ میں ایک مسجد بھی بنائی ہے ۔ اسلام دوبارہ اسپین میں اپنی تاریخ شروع کر رہا ہے۔

برطانیہ کے یہ نو مسلم خود کفیل زندگی گزارتے ہیں وہ پوری طرح اسلام پر عمل کرتے ہیں۔ وہ عمامہ پہنتے ہیں ان کی عورتیں اور لڑکیاں اپنے پورے سر کو ڈھکے رہتی ہیں ان کا ایک میگزین بھی نکلتا ہے جس کا نام ” اسلام “ ہے انھوں نے اپنی بستی میں ایک اسلامی مدرسہ بھی بنایا ہے جس میں بچوں کو قرآن پڑھایا جاتا ہے۔

امریکی فلسفی رالف والڈو ایمرسن (۱۸۸۲-۱۸۰۳) نے اپنے زمانہ کی امریکی جماعتوں کے بارہ میں کہا تھا: Our parties are parties of cir-cumstances and not of principle ہماری جماعتیں محض حالات کی پیدا وار ہیں۔ وہ اصولی جماعتیں نہیں ہیں۔ یہی بات آج کی ہندوستانی جماعتوں پر صادق آتی ہے۔ حتیٰ کہ خود ملی اور اسلامی جماعتیں بھی بڑی حد تک اسی کا مصداق ہیں ۔ ہماری تحریکیں وقتی حالات کے تحت اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ مثبت فکر اور مستقل ذمہ داری کے احساس نے ان کو پیدا نہیں کیا۔ یہ تحریکیں اگر مستقل ذمہ داری کے احساس کے تحت وجود میں آتیں تو وہ دعوتی تحریکیں ہوتیں نہ کہ ہماری موجودہ تحریکوں کی طرح سیاسی اور احتجاجی تحریکیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page