اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
اجعلتم سقایة الحاج وعمارة المسجد الحرام تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت كمن آمن بالله والیوم الآخر وجاهد فی سبیل کرنے کو اس شخص کے برابر ٹھہرالیا ہے جو ایمان لایا اللہ الله لا يستون عند الله والله لا یهدى القوم پر اور آخرت کے دن پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ الظالمین۔ الذین آمنوا و هاجروا و جاهدوا فی کے نزدیک دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ ظالموں سبیل الله باموالهم وانفسهم اعظم درجة کو راہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ کہ ایمان لائے اور جنہوں نے عند الله واولئك هم الفائزون يبشرهم گھر چھوڑا اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ربهم برحمة منه ورضوان وجنت لهم فيها کیا ان کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ نعیم مقیم (توبه ۲۱ - ۱۹) کامیاب ہیں۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی طرف سے رحمت اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی۔
کعبہ، اسلام کے ظہور کے بہت پہلے سے تمام عربوں کے نزدیک مقدس چلا آ رہا تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے اس کی عظمتیں لوگوں کے دلوں میں قائم کر دی تھیں۔ اس سے معمولی انتساب بھی ایک قابلِ تذکرہ چیز سمجھا جاتا تھا۔ کعبہ کی زیارت اتنا مقدس عمل تھا جس کو آدمی فخر کے ساتھ بیان کر سکتا تھا۔ کعبہ کا خادم اور منتظم ہونا ایک ایسا مسلمہ اعزاز تھا کہ جس کو حاصل ہو جائے اس کو وہ قوم کا سردار بنانے کے لئے کافی ہو ۔ مکہ کے مشرکین کعبہ کی انہیں پر فخر روایات کے اوپر کھڑے ہوئے تھے۔ کعبہ سے انتساب اور اس کی زیارت و خدمت نے ان کو لوگوں کی نظر میں محترم بنا دیا تھا۔ وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ اس کے باہر بھی فضل و شرف کا کوئی درجہ ہے جو کسی کو خدا کی طرف سے عطا کیا جائے۔
دوسری طرف اسلام تھا جس کی ابھی کوئی تاریخ نہیں بنی تھی۔ جس کے گرد ابھی تک عظمتوں کی روایات جمع نہیں ہوئی تھیں۔ اس کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ تھی کہ ایک یتیم جو ابھی تک بکریاں تک چرایا کرتا تھا، اپنے ذاتی حوصلوں کے تحت داعی حق بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ اور کچھ لٹے پٹے لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایک، دیکھنے والوں کو قوم کے اصاغر کا وقتی مجمع نظر آتا تھا۔ دوسرا، قوم کے اکابر کا شان دار قافلہ جو عزت و شرف کی ابدی مسندوں پر جلوہ افروز ہو۔
مکہ کے لوگ اپنے آپ کو کعبہ کی عظمتوں کے جلو میں پا کر مطمئن تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی دینی حیثیت مسلم ہے۔ ان کی خدا پرستی میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں۔ مگر خدا کے یہاں ایسی دینداری کا کوئی اعتبار نہیں جس کے ساتھ دنیوی عزتیں اور مادی ترقیاں وابستہ ہو گئی ہوں۔ جو دین تجارت بن گیا ہو، وہ کسی کی خدا پرستی کو جانچنے کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues