مشتعل ہوئے بغیر معترض کو جواب دینا
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳
لیتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا۔ اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ، ناپسند ہوتا تو چھوڑ دیتے ( ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاماً قط ۔ ان اشتهاه أكله وإن كرهه، بخاری ومسلم)
مشتعل ہوئے بغیر معترض کو جواب دینا
علقمہ کہتے ہیں۔ بنواسد کی ایک عورت جس کا نام ام یعقوب تھا، عبداللہ بن مسعود رض پاس آئی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ گودنا گودنے والے اور گودنا گدوانے والے پر لعنت کرتے ہیں۔ حالاں کہ میں نے قرآن کو شروع سے آخر تک پڑھا ہے اور اس میں میں نے وہ بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ " پھر اس نے کہا: اور میرا تو یہ خیال ہے کہ آپ کے گھر والے بھی ضرور ایسا کرتے ہوں گے (انی لاظن اهلک یفعلون بعض ذلک) عبداللہ بن مسعود رض نے کہا تم میرے گھر میں جا کر دیکھ لو۔ وہ گھر کے اندر گئی اور دیکھا، مگر کسی پر گودنے کا نشان نہ پایا۔ وہ واپس آئی تو عبداللہ بن مسعود رض نے اس سے کہا: کیا تم نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ " رسول جو دے اس کو لے لو اور جس سے وہ روکے اس سے رک جاؤ" کے عورت نے کہا ہاں۔ انھوں نے کہا: فانہ قد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے) جامع بیان العلم وفضلہ دوم ۱۸۸ کسی کو حقیر الفاظ میں یاد نہ کیا جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ عائشہ رض کے حجرہ میں تھے۔ گفتگو کے دوران عائشہ رض کی زبان سے اپنی سوکن صفیر رض کے بارے میں نکل گیا: " حسبك من صفية كذا وكذا ! وہ حضرت صفیہ رض کے ناتے قد کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ یہ سنتے ہی اچانک آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی کہ اگر اس کو سمندر میں ملا یا جائے تو سمندر کا پانی بھی بدل جائے " ”لقد قلت كلمة لو مزجت بماء البحر لمزجته ، ابوداؤد ، ترمذی)
خاموش رہنا اور اہل تنہ کو بولنے کا موقع دینا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو مدینہ میں نفاق نے زور پکڑا اور عرب و عجم مرتد ہونے لگے۔ نہاوند (ایران) سے ان کی ساز باز ہوگئی۔ انھوں نے کہا وہ آدمی (رسول) وفات پاگیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو خدا کی مدد حاصل ہوتی تھی۔ اس وقت خلیفہ اول ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا: ان عربوں نے بکری اور اونٹ (زکوۃ) دینا بند کر دیا ہے۔ وہ اسلام سے پھر گئے ہیں، عجمیوں نے نہاوند والوں سے ساز باز کرلی ہے تاکہ وہ مل کر تم سے لڑیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ شخص چلا گیا جس کی وجہ سے تمھاری مدد ہوتی تھی۔ اب تم لوگ مجھ کو مشورہ دو۔ میں بھی تمھاری طرح ایک آدمی ہوں۔ بلکہ خلافت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تم سب سے زیادہ کمزور ہوں ۔ " عبداللہ بن عمر رض کہتے ہیں: صحابہ کرام نے سنا اس کے بعد وہ چپ ہو کر بہت دیر تک گردن جھکائے رہے پھر عمر بن الخطاب رض بولے۔ - - (فانظر توا طویلا ۔ ثم تكلم عمر بن الخطاب رض فقال... کنز
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues