Al-Risala · March 1979 · page 42

بولنے میں احتیاط

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲

بولنے میں احتیاط

اشعث بن شعبہ کہتے ہیں کہ انھوں نے فزاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا گیا کہ جنگ صفین میں جو لوگ لڑے اور مارے گئے۔ ان کی بابت آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا: یہ وہ خون ہے جس سے اللہ نے میرے ہاتھ کو محفوظ رکھا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اپنی زبان کو اس سے آلودہ کروں (تلك دماء کف الله عنهایدی لا اريد ان الطخ بها لسانی ، ابن عبدالبر، جامع بیان العلم وفضلہ، جز وثانی، صفحہ ۹۳ ) تنقید مگر بحث و جدال نہیں بیان کیا گیا ہے کہ طاؤس اور وہب ابن منبہ دونوں ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ اے ابو عبد اللہ میں نے آپ کے بارے میں ایک سنگین بات سنی ہے۔ انھوں نے پوچھا کیا بات ۔ طاؤس نے کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اللہ ہی تو تھا جس نے قوم لوط کو ایک دوسرے پر سوار کیا۔ وہب نے یہ سن کر کہا۔ اللہ کی پناہ ۔ پھر وہ چپ ہو گئے۔ میں نے پوچھا ۔ کیا دونوں میں کوئی بحث ہوئی، راوی نے کہا نہیں۔ رروٹيان طاؤس او وہب ابن منبہ التقيا فقال طاؤس لوهب یا ابا عبد الله بلغنی عنك امر عظیم - فقال ماهو - قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض - قال اعوذ بالله ۔ ثم سكتا - قال فقلت هل اختصما ، قال لا - ابن عبدالبر جامع بیان العلم وفضلہ، جزء ثانی، صفحہ ۹۵ )

تنقید غلطی کی نشان دہی کا نام ہے نہ کہ عیب لگانے کا علی بن ابی طالب ی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں جو باہمی لڑائیاں ہوئیں، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر بالکل الگ رہے تھے۔ اپنی علیحدگی کے بارے میں انھوں نے بار بار کہا کہ "میں مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کا خون کرنا جائز نہیں سمجھتا، اس لئے اس سے الگ ہوں"۔ تمام امت آپ کے اخلاص اور تقویٰ اور اصابت رائے پر متفق ہے۔ مگر آپ کے معاصرین نے آپ کو متہم کرنے کے لئے ایک پہلو نکال لیا۔ کچھ لوگ آپ سے ملے اور کہا کہ آپ کیوں "جہاد" کے لئے نہیں نکلتے ۔ عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کی اس لڑائی کو جہاد نہیں سمجھتا۔ یہ مسلمانوں کا باہمی قتل و خون ہے نہ کہ جہاد۔ مگر لوگ ان کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا :

واللہ مارأيت ذلك ولكنك اردت ان یفنی خدا کی قسم تمھاری یہ رائے کچھ نہیں۔ بلکہ تم چاہتے ہو اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپس بعضهم بعضا حتى اذا لم يبق غيرك قيل : میں لڑ کر ایک دوسرے کو فنا کر دیں۔ یہاں تک کہ جب بايعوا لعبد الله بن عمر بامارة المومنين ۔ تمھارے سوا کوئی باقی نہ رہے تو کہا جائے : مسلمانوں (ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء، جلد اصفر (۲۹) کی امارت کے لئے عبداللہ بن عمر رض سے بیعت کرو۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا علم کی نشانی ہے قال سعيد بن ابی عروبة من لم يسمع الاختلاف فلا تعده عالما جو شخص اختلاف کو نہ سنے اس کو عالم نہ شمار کرو (جامع ۴۷)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page