قولِ اسلام کا معیارِ اتحادِ اسلام ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
قولِ اسلام کا معیارِ اتحادِ اسلام ہے
یاایھا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون۔ اے ایمان والو کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ کبر مقتآ عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون۔ بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔ ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صف’ اللہ چاہتا ہے ان کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار کانھم بنیان مرصوص (الصف) باندھ کر جیسے وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی۔
اس آیت کے مطابق قولِ اسلام کی صداقت کی جانچ اتحادِ اسلام ہے۔ اسلام کے قائلین اگر اسلامی مہم کے لئے متحد نہ ہو سکیں تو ان کا قول اللہ کی نظر میں مقت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔ یہ اصول نہایت اہم نکتہ پر مبنی ہے۔ کوئی بڑا کام اتحاد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مگر اتحاد ایک بہت بڑی قربانی مانگتا ہے۔ یہ آدمی کے ”انا“ کی قربانی ہے۔ جب زیادہ انسان ایک محاذ پر جمع ہوں گے تو لازمی ہے کہ ان میں رایوں کا اختلاف ہو۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ بار بار نفس کو ٹھیس لگے۔ ہر آدمی بڑا بننا چاہتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر یہ سویا ہوا جذبہ رکھتا ہے کہ ”میری چلے، دوسرے کی نہ چلے“؛ ایسی حالت میں جب بھی کچھ لوگ جمع ہوں گے تو لازماً آپس میں ٹکراؤ ہو گا۔ کہیں خلاف مزاج بات کو برداشت کرنا ہو گا۔ کہیں تنقید سننی پڑے گی۔ کہیں اپنی شکست پر صبر کرنا ہو گا۔ کہیں اپنی بے عزتی کو سہنا ہوگا۔ کہیں اپنے مقابلہ میں دوسرے کو ترجیح دینی ہوگی۔ کہیں اجتماعی مصلحت کی خاطر اپنی ذاتی رائے کو قربان کرنا ہو گا۔ کہیں ایک جائز کریڈٹ سے محرومی پر اپنے کو راضی کرنا پڑے گا۔ غرض بے شمار قسم کی ناخوش گواریاں سامنے آئیں گی۔ ایسی حالت میں اتحادِ عمل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو اپنی ”انا“ کو ختم کر کے مسلمان بنا ہو۔ جو اپنی ذات کو دفن کر کے اجتماعیت میں شامل ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ کی کبریائی پر ایمان لانے کے باوجود اپنی انا کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہو، وہ کبھی متحدہ جد و جہد پر ٹھہر نہیں سکتا۔ اللہ پر ایمان، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اپنی ذات کی نفی کا نام ہے۔ اور اتحاد میں سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ متحدہ جد و جہد سب سے بڑی اور یقینی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آدمی اپنی ذات کی نفی کر کے اسلام میں داخل ہوا ہے یا اپنی انا کے بت کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ جو لوگ اپنی انا کے بت کو توڑ چکے ہوں ان کے لئے کوئی چیز اتحادِ عمل میں مانع نہیں ہوتی۔ اسی لئے اسلام کے محاذ پر جب ایسے لوگ قابلِ لحاظ تعداد میں جمع ہو جائیں تو لازمادہ کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔ آخرت کی جنت بھی ان کے لئے لکھ دی جاتی ہے اور دنیا کا غلبہ بھی (صفہ ۱۳) مگر جو لوگ اپنی انا کے بت کو لئے ہوئے ہوں، وہ کبھی متحدہ طاقت نہیں بنتے۔ اور اس طرح وہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا ”قول“ حقیقتاً قول بلا فعل تھا۔ ایسے لوگ اللہ کی نظر میں بالکل بے قیمت ہیں۔ خواہ اپنی خوش فہمیوں کی دنیا میں وہ کتنا ہی زیادہ بڑے نظر آتے ہوں۔ ایمان باعمل کی کسوٹی جو خدا نے مقرر کی ہے وہ اسلام کے لئے متحدہ عمل ہے۔ کوئی دوسری کسوٹی خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے خدا کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues