Al-Risala · March 1979 · page 30

زیادہ بڑی ذلت

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰

یہ ایک کی بے غرضی کا امتحان ہے اور دوسرے کی فیاضی کا للفقراء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا يستطيعون دینا ہے ان حاجت مندوں کو جو گھر گئے ہیں اللہ کی راہ ضربا فی الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من میں۔ چل پھر وہیں سکتے زمین میں۔ نا واقف ان کو غنی التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسئلون الناس الحافا خیال کرتا ہے۔ تم ان کے چہرہ سے ان کو پہچان لو گے۔ وما تنفقوا من خير فان الله به عليم ۔ الذين لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے ينفقون اموالهم بالليل والنهار سر ا وعلانية وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا مال رات دن کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، ان کا اجر هم يحزنون (بقره - ۲۷۳) ان کے رب کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ ڈر ہے نہ غم۔

انفاق کے حکم کے ذیل میں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے وسعت دی ہے ان کے لئے خرچ کی سب سے بڑی مد وہ لوگ ہیں جو دین کی خدمت میں لگنے کی وجہ سے ایسا گھر گئے ہیں کہ معاشی جدوجہد کے لئے وقت نہیں نکال سکتے۔ ایسے لوگوں کو خدا کا دین ایک طرف اس قابل نہیں رکھتا کہ نہ دوسرے لوگوں کی طرح معاش کی فراہی کے لئے دوڑ دھوپ کر سکیں۔ دوسری طرف یہی دین ان کے اندر توکل علی اللہ کا جو مزاج پیدا کرتا ہے، وہ اس کے لئے مانع بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی یا دینی ضرورتوں کے لئے ہر ایک سے کہتے پھریں۔ ان کی متوکلانہ باتیں اکثر لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ مستغنی ہیں، ان کو پیسہ کی ضرورت نہیں۔

تاہم وہ لوگ جن کو اللہ نے ایمان کی روشنی عطا کی ہے، وہ ظاہری پر دوں کو پھاڑ کر خدا کے ان بندوں کو دیکھ لیتے ہیں۔ وہ جان لیتے ہیں کہ یہ دنیا امتحان کا مقام ہے۔ یہاں "لینے والوں" کی بے غرضی کا امتحان ہو رہا ہے اور "دینے والوں" کی فیاضی کا امتحان ۔ ایک سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں اس طرح جھونک دے کہ اس کے پاس پیسہ کمانے کا وقت نہ رہے اور دوسرے سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے خرچ کی سب سے بڑی مد اپنی ذات کو نہیں بلکہ خدا کے دین کو سمجھے اور اپنی کمائی کو اس قسم کے خادم ان دین پر قربان کر دے۔ ایک کا کمال یہ ہے کہ اپنی ضرورت مندی کو چھپائے اور دوسرے کا کمال یہ ہے کہ بظاہر چھپے ہونے کے باوجود اس کی ضرورتوں کو جان لے۔ ایک اگر اپنی تمام توانائیوں سمیت خدا کی طرف دوڑ رہا ہو تو دوسرا خدا کی طرف دوڑنے والوں کے پیچھے اپنا سرمایہ لئے پھرتا ہو ۔ جن لوگوں کے رات اور دن، جن کی خلوتیں اور جلوتیں اس طرح اللہ کے لئے وقف ہو جائیں، وہ گویا اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آکر خدا کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنی ضرورتوں سے اوپر اٹھ کر دین کی ضرورتوں کو جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مالی قربانیوں کا بے حساب گنا بدلہ دے گا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہر قسم کے اندیشوں سے بے خوف ہو کر خوشیوں کی لازوال دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page