وعظ کون کرے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
" روزہ نماز " زندگی سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے جو چھنگلیا کی طرح آدمی کے ہاتھ میں ملکی رہے۔ بلکہ یہی اصل زندگی ہے۔ روزہ نماز کو آدمی کی پوری ہستی میں شامل ہونا چاہئے نہ کہ اس طرح جیسے کوئی وقتی رسم ادا کی جاتی ہے۔ - آدمی حقیقت کیا ہے ، اس کو دیکھنے کی جگہ عبادتی مراسم نہیں ہیں۔ بلکہ آدمی کی اصل زندگی ہے — اگر اس کی مجلسی باتیں وہی ہوں جو عام دنیا داروں کی ہوتی ہیں۔ اگراس کے اخبار میں وہی باتیں چھیڑی رہتی ہوں جو عام قومیں اپنے اخباروں میں چھیڑے رہتی ہیں۔ اگراس کے پاس بھی وہی نخرے اور مطالبے ہوں جو دوسروں کے پاس ہوتے ہیں ۔ اس کی بحثوں اور گفتگوؤں اور دوسروں کی بحثوں اور گفتگوؤں میں اس کے سوا کوئی فرق نہ ہو کہ دوسرے لوگ جو بات اپنی روایتی اصطلاحوں میں کہتے ہیں ، وہ ان کو اپنی روایتی اصطلاحوں میں بیان کر رہا ہے ، اگر ایسا ہو تو اس کی نماز قرآن کے الفاظ میں غفلت کی نماز ( ماعون ) کہی جائے گی ۔ یعنی نماز روزہ کے ذریعہ وہ جس قسم کی زندگی گزارنے کا اقرار کرتا ہے ، حقیقی عملی زندگی میں وہ ان کو نہیں اپناتا۔
ذکر کوئی رٹے ہوئے منتروں کا جاپ نہیں ہے۔ ذکر اللہ کی یاد کا نام ہے جو قلب و روح کی گہرائیوں سے ابلتا ہے اللہ سے خوف ، اللہ سے محبت ، اللہ پر اعتماد ، اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنا ، جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کا سینہ اللہ کی یاد سے بھر جاتا ہے ۔ اللہ کے کلمات اس کی زبان و قلب سے امنڈتے رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت اللہ سے دعاؤں اور سرگوشیوں میں مشغول رہتا ہے — اللہ کے ساتھ اس قسم کے مستقل ربط camac touch میں رہنے کا نام ذکر ہے۔
وعظ کون کرے
ایک بزرگ نے فرمایا کہ " وعظ وہ شخص کرے جس کو وعظ کا کم سے کم اتنا تقاضا ہو جتنا ایک شخص کو رفع حاجت کا ہوتا ہے " یہ بات تحریر اور تقریر دونوں کام پر صادق آتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اتنا زیادہ مطالعہ کرے کہ معلومات اس کے ذہن سے ابلنے لگیں ۔ متعلقہ موضوع پر جو ذخیرہ کتب خانوں میں موجود ہے ، ان کو چھاننے کے بعد وہ بے تابانہ محسوس کرے کہ اب بھی کچھ لکھنے سے رہ گیا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جائے کہ اس کی معلومات تھامے نہ سکتیں اور اس کی بے تابی روکے نہ رکے ۔ اس وقت اس کو بولنے یا لکھنے کے لئے اٹھنا چاہئے۔ اس کے بغیر جو لوگ " لاؤڈ اسپیکر، استعمال کریں گے وہ صرف فضائی شور وغل (Noise Pollution) میں اضافہ کریں گے ۔ اور اس کے بغیر جو لوگ قلم سنبھالیں گے وہ صرف سفید کا غذ کو سیاہ کرنے کا کارنامہ انجام دیں گے۔ اس قسم کے مشاغل سے ممکن ہے کسی کے سطحی ذوق کو تسکین ملتی ہو مگر اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہ سننے والے کو ملتا ہے اور نہ سنانے والے کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues