یہ بے حسی کیوں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰
لگیں، اگر اس کے سطحی اور ظاہری ساز و سامان آپ کو اپنی طرف کھینچ لیں، تو وہ آپ سے آپ کا سب سے بڑا جوہر چھین لیں گے ۔ اس کے بعد آپ کے نازک جذبات مردہ ہو جائیں گے، آپ کے اندر وہ لطیف احساسات ابھر نہیں سکتے جو اعلیٰ ترین حقائق کا ادراک کرتے ہیں۔ جن پر تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے۔ جس کے بعد آدمی تمام حجابات سے بلند ہو کر حقیقت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جس کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا نہیں ہوئی، اس کے اندر گویا وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوئی جو کسی حقیقت کو سمجھے اور اسے قبول کر سکے۔ ظاہر ہے کہ ایسے دل میں حکمت کا "انبات" نہیں ہو سکتا۔ جس زمین میں اخذ کی صلاحیت نہ ہو وہ کیسے کسی بیج کو قبول کرے گی اور اس کے اندر ڈالا ہوا دانہ نشوونما پا کر پورا درخت کیسے بن سکتا ہے۔ یاد رکھیے، حقیقت ایک غیر مادی چیز ہے۔ اس لئے وہ روح جو مادی آلائشوں میں پھنسی ہوئی ہو، وہ حقیقت کو بے نقاب حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ اس کا مشاہدہ ہمیشہ دھندلا مشاہدہ ہو گا جس میں حقیقت کے بعض رُخ دکھائی دیں گے اور بعض رخ نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔ روح کی لطافت اور کثافت کوئی تصوف کا پر اسرار مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ بالکل ایک سادہ سی حقیقت ہے جس کو ہر شخص معمولی غور و فکر سے سمجھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کا جو حیاتیاتی اور تصوراتی وجود ہے وہ کسی اور کی محبت میں اٹکا ہوا ہے یا اس نے اپنے آپ کو دوسری چیزوں کی گرفت سے بالکل خالی کر دیا ہے تاکہ مالکِ حقیقی کی یاد آپ کی روح کو اپنا مسکن بنا سکے۔ مگر مسھوں میں اگر مسجد میں بجلی کا پنکھا چلا یا جائے اور اس کی ہوا میں نماز ادا کی جائے تو ظاہر ہے کہ کوئی اسے ناجائز نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اگر دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو تو یہ حال ہوتا ہے کہ مسجدوں میں نماز کے لئے آنے والے پنکھے کے نیچے جگہ حاصل کرنے کے لئے مسابقت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نماز کے دوران میں اگر کرنٹ رکنے کی وجہ سے پنکھا بند ہو جائے تو سلام پھیرتے ہی ہر شخص کی نظریں اوپر اٹھ جاتی ہیں اور نماز کے بعد یا درسیلانی کے انتظام کی خرابی وہ اہم ترین موضوع ہوتا ہے جس پر لوگ اپنے جذبات اور اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی آرام طلبی نے آپ کی روح کو گندہ کر دیا۔ اس میں گرمی اور سردی کے مسائل نے اپنے آشیانے بنا لئے۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی وہ نماز نہیں پڑھ سکتا جو ساری لذتوں سے بڑھ کر لذیذ ہے۔ جس میں مشغول ہو کر آدمی گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتا ہے، جب ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔
مجھ کو بار بار اس کا تجربہ ہوا کہ ایک شخص اپنے ذوق اور اپنی عادتوں کے معاملے میں نہایت حساس ہے۔ اپنے طبعی تقاضوں میں کمی کو وہ کسی حال میں برداشت نہیں کرتا۔ مگر ایسے معاملات جو خدا اور آخرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو اس کی دوامی زندگی کو بہتر یا بدتر بنانے والے ہیں ان میں وہ اکثر نہایت سنگین حقیقتوں کو اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے گو یا ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس کے سامنے آپ قرآن و حدیث کے صریح ارشادات پیش کیجئے، مگر وہ ایسے سرسری جوابات دے کر بات کو ٹال دے گا کہ آپ حیرت میں یہ سوچتے رہ جائیں گے کہ ’’دوبارہ ان کا کوئی جواب بھی دوں یا نہیں‘‘ اس کی وجہ یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دنیا سے اوپر اٹھا نہیں سکا۔ اس کے ایمان بالآخرہ نے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues