یہ بے حسی کیوں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹
وہ شدید یقینی اور وہ زبردست استحضار دیکھنا چاہتے ہیں جو دل کو پھیلا دے اور آنکھوں کو اشکبار کر دے تو یہی سب کچھ اس کے بغیر یں ہو سکتا کہ آپ حدیث کے الفاظ میں ’’تشقیب ہموم‘‘ کو ختم کر کے اپنی ساری نظریں صرف ایک نقطہ پر لگا دیں ۔ ارجن کے مشہور واقعہ کی طرح آپ کو درخت اور چڑیا اور پتے اور پھل نظر نہ آئیں بلکہ صرف ایک چیز نظر آئے ـــــ ’’شکار کی بائیں آنکھ‘‘ جب آپ یہ ذہنی گم شدگی اور یہ استغراق اپنے اندر پیدا کریں گے تو عادت اور ذوق کے تقاضے آپ کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے ، لذتوں اور آسائشوں کا خیال مدہم پڑ جائے گا۔ فکر کی زیادتی جسمانی تقاضوں پر غالب آنے لگے گی۔ آپ کا مہنا اور بولنا کم ہو جائے گا ، تصوراتی دنیا کو پانے کی کوشش میں آپ مادی دنیا سے دور ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس وقت ممکن ہے لوگ کہیں تم پاگل ہو گئے ہو۔ مگر اس سے گھبرائیے نہیں، کیونکہ یہی وہ صحیح ترین خطاب ہے جو کسی بامقصد آدمی کو اہل دنیا کی طرف سے دیا جا سکتا ہے۔
۲- زہد فی الدنیا کے ذریعہ دوسری چیز جو حاصل ہوتی ہے وہ لطافت روح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مادی دنیا میں آدمی جتنا زیادہ مشغول ہوگا۔ اس کی روح میں اسی قدر کثافت پیدا ہوگی۔ اور جتنا وہ اس سے اپنے آپ کو دور لے جائے گا اسی کے بقدر اس کی روح پاک اور خالص ہوتی چلی جائے گی۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں رہبانیت کی تبلیغ کر رہا ہوں، رہبانیت دنیا سے اپنے آپ کو الگ کر لینے کا نام ہے حتیٰ کہ اس مقصد سے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مار ڈالے تو یہ بھی رہبانی فلسفہ کے مطابق جائز ہوگا۔ اس کے برعکس نہ زہد یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر اسی دنیا میں ہو۔ مگر اس سے بے رغبت ہو چکا ہو وہ دنیا میں رہتے ہوئے ذہنی حیثیت سے اس سے باہر نکل جائے۔ مومن بھی یقیناً راہب ہوتا ہے۔ مگر اس کی رہبانیت حسی رہبانیت ہے جب کہ دوسرے مذاہب جسمانی رہبانیت میں عقیدہ رکھتے ہیں۔
’’اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے احساسات کسی ایک ہی چیز کے بارے میں شدید ہو سکتے ہیں۔ وہ دو سمتوں میں حرکت نہیں کر سکتے۔ اگر آپ دنیا اور اس کے ساز و سامان کو اہمیت دینے لگیں تو آخرت کا خیال آپ کے اندر کمزور پڑ جائے گا اور اگر آپ آخرت کی فکر میں مشغول ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کے بارے میں آپ پر غفلت طاری ہونے لگے گی۔ جو شخص دنیوی قدروں کو اہمیت دیتا ہے ، اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اخروی قدروں کو پامال کر رہا ہے۔ آپ کو ایسے ’’خوش مذاق‘‘ ملیں گے جن کے کھانے کی پلیٹ میں مکھی تیر جائے تو وہ اس کو کھانا پسند نہیں کریں گے۔ دوسری طرف ان کے اسلام میں کتنی ہی مکھیاں پڑی سڑ رہی ہوں گی۔ مگر اس کی عفونت کا انھیں اندازہ نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی طرف رغبت نے آدمی کی حسیات کو دنیا کے بارے میں تو بہت تیز کر دیا، مگر اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت کے بارے میں اس کی حسیات کند ہو کر رہ گئیں۔
یہ دنیا جو آپ کے جسم کو موٹا کرتی ہے۔ یہ آپ کی روح کی قاتل ہے۔ اگر آپ اس کے اندر لذت ڈھونڈنے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues