الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳
بسم الله الرحمن الرحيم
کوئی آدمی دولت کے لئے جیتا ہے، کوئی عزت کے لئے، کوئی اقتدار کے لئے۔ ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا کسی نہ کسی چیز میں جی وہا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جس کے سہارے وہ زندہ ہو ۔ جس کو وہ سب سے زیادہ قابل لحاظ سمجھے۔ جس کو حاصل کرنے کا خواب دیکھے۔ جس کے لئے دوڑ دھوپ کرے ۔ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے، اس کی تمنائیں اور اس کی حسرتیں سب سے زیادہ اس سے وابستہ ہوں ۔ اس کو پا کر وہ سب سے زیادہ خوش ہو اور اس کے چھننے کا ڈر ہو تو وہ سب سے زیادہ غمگین ہو جائے۔ یہی دین ہے۔ اس معنی میں ہر شخص کا ایک دین ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے ایک دین سے خالی نہیں۔ آدمی جس چیز کو اپنا ”دین“ بنائے اسی کے مطابق اس کی پوری زندگی بنتی ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات، اس کا لین دین، اس کے انسانی تعلقات، اس کی سرگرمیاں اور کارروائیاں سب اسی کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ اس کام کو کرتا ہے جس سے اس کا مقصود ملنے والا ہو، اس کام سے دور بھاگتا ہے جس سے اپنے مقصود کو نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہو۔ یہی دین اس کا حاکم ہوتا ہے۔ سوتے جاگتے ہر حال میں وہ اسی دین کو پکڑے رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا کوئی گوشہ اس کے اثر سے خالی نہیں ہوتا۔
یہ دین خدا کا بھی ہو سکتا ہے اور غیر خدا کا بھی۔ موجودہ دنیا میں یہی امتحان ہے کہ آدمی کون سا دین اختیار کرتا ہے۔ خدا کا یا غیر خدا کا۔ یہاں ہر شخص کو آزادی ہے۔ یہاں غیر خدا کے دین کو پکڑ کر بھی آدمی عزت اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ مگر یہ کامیابی بالکل وقتی ہوگی۔ وہ زیادہ سے زیادہ موت تک آدمی کا ساتھ دے گی اس کے بعد اگلی مستقل دنیا میں وہ اس حال میں اٹھے گا کہ وہ بالکل خالی ہاتھ ہو گا۔ اگلی دنیا میں خدا اپنے قدرت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہوگا۔ اس لئے وہاں عزت و کامیابی صرف اس شخص کے لئے ہوگی جس نے موجودہ دنیا میں خدا کے دین کو اپنا دین بنایا ہو گا۔ جو کسی دوسرے دین کو اختیار کرے گا، اس کے موت کے بعد آنے والی دنیا میں ناکامی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
خدا کا دین ہی انسان کے لئے فطری اور حقیقی دین ہے۔ یہ حقیقت ڈر کے لمحات میں کھل جاتی ہے۔ آدمی خواہ کوئی بھی دین اختیار کرے۔ خواہ وہ کوئی بھی سہارا پکڑے ۔ مگر جب انسان کی زندگی کا جہاز کسی بھنور میں پھنستا ہے جب اس پر کوئی نازک لمحہ آجاتا ہے، اس وقت اس کو تمام چیزیں بھول جاتی ہیں۔ اس وقت وہ بے اختیار ہو کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ تجربہ جو کبھی نہ کبھی ہر شخص کی زندگی میں گزرتا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی دین صرف خدا کا دین ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اسی کو اپنی زندگی کا دین بنائے۔ اس کے سوا رہ جس دین کو بھی پکڑے گاوہ وقت آنے پر اسی طرح بے حقیقت ثابت ہوگا جیسے آج نازک لمحات میں تمام چیزیں بے حقیقت ثابت ہو جاتی ہیں۔ آج کے حالات میں فطرت کی پکار آئندہ آنے والی مستقل دنیا کا ایک اشارہ ہے۔ وہی شخص کامیاب ہے جو اس اشارہ پر کان لگائے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues