آدمی کا امتحان
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۴
آدمی کا امتحان
پہلا انسان جو خدا نے پیدا کیا وہ آدم تھے۔ اس وقت خدا کی پیدا کی ہوئی دو مخلوقات اور تھیں۔ ایک فرشتے دوسرے جن۔ خدا نے فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا کہ تم سب آدم کے آگے سجدہ کرو۔ فرشتے خدا کا حکم سنتے ہی سجدہ میں گرپڑے۔ مگر ابلیس، جو جنوں کا سردار تھا، اس نے سجدہ نہیں کیا۔ خدا نے کہا: تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا جب کہ میں نے اس کا حکم دیا تھا۔ ابلیس بولا: میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے آدم کو مٹی سے بنایا ہے اور مجھ کو آگ سے (اعراف (۱۲) ابلیس خدا کو سجدہ کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر وہ آدم کو سجدہ کرنے پر راضی نہ ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ملعون اور جہنمی قرار دے دیا گیا۔
یہی معرکہ آدم کی اولاد میں آج بھی جاری ہے۔ ایک طرف فرشتے ہیں جو آدمی کو تسلیم اور اعتراف کا سبق دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ابلیس ہے جو انسان کی رگوں میں تیرتا ہے اور آدمی کو اکساتا ہے کہ وہ خود پسندی (انا خیر منہ) کا طریقہ اختیار کرے اور اس کا ہم مسلک بن جائے۔ اس طرح ہماری زندگی میں دوبارہ بہت بڑے پیمانہ پر وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے جو پہلے انسان کی پیدائش کے وقت ابتداء پیش آئی تھی۔ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہم کبھی نہ کبھی ایک آدم" سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہمارا سابقہ کسی نہ کسی انسان سے پڑتا ہے اور اس کا کوئی نہ کوئی حق ہمارے اوپر عائد ہوتا ہے، خواہ وہ ایک اچھے بول کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ ایسے ہر موقع پر خدا اپنی خاموش زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے حکم کی تعمیل میں اس آدم کے سامنے جھک جاؤ۔ اب جو لوگ فرشتوں کی روش کو اختیار کریں اور اپنے بارے میں خدا کے حکم کو پہچان کر اپنے آپ کو اس کے آگے ڈال دیں، وہ خدا کے وفادار بندے ہیں۔ وہ ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔ اور جو لوگ ابلیس کے طریقے کو اختیار کریں اور اپنی بڑائی کی خاطر دوسرے کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوں، وہ خدا کے باغی لوگ ہیں۔ وہ ابلیس کے ساتھ جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے تاکہ وہاں ابدی طور پر جلتے رہیں :
شیطان بولا : جیسا تو نے مجھے بدراہ کیا ہے، میں تیری سیدھی راہ پر انسانوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔ میں ان پر آؤں گا آگے سے اور پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے۔
اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ اللہ نے کہا: نکل یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر۔ ان میں سے جو کوئی تیری راہ چلا تو میں تم سب سے دوزخ کو بھر دوں گا (اعراف ۱۸-۱۶)
انسان خدا کا بندہ ہے۔ اس کو اصل سجدہ خدا ہی کو کرنا ہے۔ مگر دنیا کی زندگی میں وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے مقابلہ میں بار بار اس پر کسی نہ کسی کا حق آتا ہے اور بار بار خدا کا حکم ہوتا ہے کہ یہاں تم اس ”آدم“ کے سامنے جھک جاؤ۔ یہی آدمی کا اصل امتحان ہے۔ خدا کو سجدہ کرنے کے لئے آدمی آسانی سے تیار ہو جاتا ہے۔ مگر جہاں اس کو کسی انسان کا اعتراف کرنا ہو، جہاں کسی انسان کے سامنے جھکنے کا سوال ہو وہاں فوراً
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues