آدمی کا امتحان
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۶
حکم کو مان کر اپنے حق دار انسان کے سامنے جھک جائے۔ جو شخص خدا کے سامنے سجدہ کرے اور جب انسان سے معاملہ پڑے تو اس کا حق نہ پہچانے اور گھمنڈ اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے، وہ خدا کا ساجد بھی نہیں کیوں کہ جہاں اس کا خدا اس کے ساجد ہونے کا امتحان لے رہا تھا وہاں وہ اپنے آپ کو ساجد ثابت نہ کر سکا۔ خدا کو سجدہ کرنے کے لئے آدمی آسانی سے تیار ہو جاتا ہے کیونکہ خدا کے مقابلے میں کسی کے اندر ’’میں اس سے بڑا ہوں‘‘ کی نفسیات نہیں ہوتی۔ جب کہ انسان کے مقابلہ میں طرح طرح کی نفسياتی گرہیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں جو ایک انسان کے لئے دوسرے انسان کے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ خدا کسی انسان کا حریف نہیں ہے۔ جب کہ ایک انسان بہت جلد دوسرے انسان کو اپنا حریف سمجھ لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھکنے کو اپنے لئے عزت کا سوال بنالیتا ہے۔ خدا کے مقابلہ میں آدمی کی نفسیات احتیاج کی نفسیات ہوتی ہے۔ خدا صرف دینے والا ہے اس کو کسی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ مگر انسان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں جب ایک شخص دوسرے شخص کے سامنے جھکتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہ کچھ دیتا ہے۔ کبھی اچھے الفاظ، کبھی دوسرے کی حقانیت کا اعتراف، کبھی اس کا مالی یا مادی حق ادا کرنا، کبھی کسی کو افضل پا کر خود پیچھے ہٹ جانا اور اس کو آگے بڑھانا، کبھی کسی کی کمزوری پر قابو پالینے کے باوجود اس کی عزت کی خاطر اس سے درگزر کرنا۔ کبھی ایک شخص کی اتفاقی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہوتے ہوئے انصاف کی خاطر چپ رہ جانا۔ کبھی سامنے کے ملتے ہوئے نفع کو چھوڑ کر صرف اصول کی خاطر بے نفع والے آدمی کا ساتھ دینا، غرض ہر بار جب کسی کے لئے دوسرے آدمی کے سامنے جھکنے کا سوال ہو تو یہ اس کو کچھ دینے کا سوال ہوتا ہے۔ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کے مقابلہ میں حق و انصاف کا رویہ اختیار کرنے کے لئے اس کو اپنی نفسیاتی گرہوں کو توڑنا پڑتا ہے۔ جب وہ کسی حریف کی عزت کرتا ہے تو یہ اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ چیزیں خدا کے سجدہ کے مقابلہ میں ’’آدم‘‘ کے آگے جھکنے کو کسی انسان کے لئے بے حد مشکل بنادیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصلی امتحان جہاں ہو رہا رہے، وہ یہی مقام ہے۔ یہی وہ اصل قربانی ہے جو ہر ایک کو اپنے خدا کی رضا کے لئے دینی ہے۔ جو اس قربانی کے لئے تیار نہ ہو وہ کبھی خدا کا محبوب بندہ نہیں بن سکتا۔ خواہ وہ بظاہر خدا کو سجدہ کرنے والا ہو یا سجدہ نہ کرنے والا۔
سب سے بڑی حقیقت اللہ رب العالمین ہے۔ اس ذات کو پالینا ہی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی جہاں اپنے رب کو پاتا ہے وہ ’’سجدہ‘‘ ہے، مگر سجدہ اسی وقت حقیقی سجدہ بنتا ہے جب کہ سجدہ سے باہر کی دنیا میں آدمی تواضع اور جھکاؤ کی زندگی اختیار کر چکا ہو۔ ایسا شخص اپنی نفسی حالت کے اعتبار سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کی تجلیات کا اخذ (Recipient) بن سکے۔ اس کے لئے سجدہ حقیقی معنوں میں رب العالمین سے ملاقات کا مقام بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سجدہ سے باہر کی زندگی میں خود پسند اور متکبر بنا ہے، اس کی روح کے اندر شیطان اپنے گھونسلے بنا لیتا ہے۔ اس کا سجدہ غفلت اور بے کیفی کا سجدہ ہوتا ہے۔ اس کا سجدہ اس کو خدا سے نہیں ملاتا، اس کا سجدہ اس کو خدا سے قریب نہیں کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues