توحید کا تصورِ اسلام میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۷
توحید کا تصورِ اسلام میں
کائنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے اپنے منصوبے کے مطابق اس کو بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ جس طرح ساری کائنات خدا کی اطاعت کر رہی ہے اسی طرح انسان کے لئے بھی صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کا فرماں بردار بن کر زندگی گزارے۔ تمام انبیاء یہی بتانے کے لئے آئے اور کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ہر آن آدمی کو یہی سبق دے رہی ہے۔ — یہ ہے اسلامی توحید اور اس مقالہ میں مجھ کو اسی نظریہ توحید کی وضاحت کرنی ہے۔
« کیا تمہیں شک ہے اللہ کے بارے میں جس نے زمین و آسمان کو پھاڑا (ابراہیم ۱۰) قرآن کا یہ ارشاد بظاہر ایک سوال ہے مگر حقیقتہ وہ سوال کا جواب ہے ۔ اس آیت میں فاطر (پھاڑنے والا) کا لفظ وجودِ خداوندی کے حق میں ایک قطعی دلیل ہے جس کو دوسرے مقام ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے "کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے ان کو جدا کر دیا (انبیاء ۳۰) اندازہ کیا گیا ہے کہ کائنات کا موجودہ دائرہ (Radius) کم از کم دس ہزار ملین سال نور ہے۔ فلکیاتی مطالعہ نے بتایا ہے کہ کائنات ایک حالت پر ٹھہری ہوئی نہیں ہے بلکہ یکساں رفتار سے اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کسی وقت کائنات سمٹی ہوئی حالت میں تھی۔ فلکیات دانوں کے خیال کے مطابق ابتداء پوری کائنات ایک بڑے ایٹم (Super Atom) کی صورت میں تھی۔ اس کے تمام اجزاء پر بے حد قوت کے ساتھ اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے۔ تقریباً پندرہ ملین سال پہلے اس ابتدائی مادہ میں ایک دھماکہ یا اخراجِ طاقت (Energy Release) کا واقعہ ہوا جس کے نتیجہ میں سپرایٹم کے اجزا اپنے مرکز سے ٹوٹ کر اپنے چاروں طرف پھیلنے لگے تاکہ موجودہ کائنات کو وجود دے سکیں ۔ سپرایٹم کے اندر اس وقت جو اسباب کام کر رہے تھے وہ تمام تر صرف اندر کی طرف کھنچنے اور سمٹنے کے تھے۔ اپنے ذاتی قانون کے برخلاف اس کے اجزاء کا باہر کی طرف سفر شروع کرنا لازماً کسی خارجی طاقت کی مداخلت ہی سے ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم کائنات کے ماسوا ایک آزاد ہستی کا وجود تسلیم کریں جو تمام طاقتوں کی مالک ہے اور جس نے اپنے شعوری عمل سے ابتدائی مادہ کے اندر یہ غیر معمولی حرکت پیدا کی۔
" زمین و آسمان میں اگر ایک خدا کے سوا کوئی اور خدا ہوتا تو ضرور ان میں بگاڑ پیدا ہو جاتا (انبیاء ۲۲) قرآن کے یہ الفاظ اس کائناتی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ یہ مافوق طاقت صرف ایک ہے، کئی نہیں۔ تمام طبیعی علوم حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ پوری کائنات ایک ہی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ جو قوانین زمین پر کام کر رہے ہیں، وہی نہایت صحت کے ساتھ اجرامِ سماوی میں بھی کارفرما ہیں۔ یہی یقین تھا جس نے انسان کو آمادہ کیا کہ وہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے خلائی مشینیں بنائے اور ان کو چاند اور مریخ پرعین اپنے اندازہ کے مطابق اتار سکے۔ اگر ساری کائنات ایک قانون کے تحت مکمل صحت کے ساتھ عمل نہ کر رہی ہو تو زمین پر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues