Al-Risala · April 1979 · page 15

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

حقیقت یہ ہے کہ حکمت ومعنویت کا جو واقعہ وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لارہا ہے وہی واقعہ انسان کو اپنی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے اپنی کائنات میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے وہی انسان کو اپنی زندگی میں اخلاقی اعتبار سے بروئے کار لانا ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز حدید (لوہا) کی شکل میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر پختہ کرداری کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز پتھر ملی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے، وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز اٹل قوانین کی صورت میں پائی جاتی ہے، وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز مہک اور لذت اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر کھربوں ستاروں کی یک کہکشاں مسلسل حرکت کرتی ہے۔ مگر اس کے ستاروں میں کوئی ٹکر اؤ نہیں ہوتا۔ حتی کہ ایک کہکشانی جھرمٹ حرکت کرتا دوسرے کہکشانی جھرمٹ میں داخل ہوتا ہے اور نہایت تیز سفر کرتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ مگر دونوں جھرمٹوں میں کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ یہی واقعہ انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسانی مجموعے اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔ مگر ان میں کبھی ایک دوسرے سے نزاع اور ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ درخت حساب ہو ا(کار بن) کو لے لیتا ہے اور اس کے بدلے اچھی ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو"۔ کائنات میں کوئی چیز کسی کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری ایک سوئی کے ساتھ صرف اپنا اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس شکل میں مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے، منفی کا رروائیاں کرنے سے مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ کائنات میں دوبارہ گردش (Recycle) کا اصول کار فرما ہے۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لیے گیس میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے اور اس کے بعد پھر سمندر میں واپس آجاتا ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کا خرچ کیا ہوا پیسہ دوبارہ انسان کے لیے مفید بنے۔ ایک انسان کی چیڑی ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے ثمرات کا تحفہ دے۔ میدانی علاقوں میں پانی زمین کے نیچے ملتا ہے اس لیے میدانی درخت نیچے گہرائی میں اپنی جڑیں لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پہاڑی ڈھلوانوں پر پانی صرف اوپری سطح پر ملتا ہے، اس لیے پہاڑی درخت اپنی جڑیں اوپر اوپر پھیلاتے ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں حالات سے مطابقت (Adjustment) کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ حالات سے لڑنے کا ۔ کائنات ذرہ سے لے کر ستاروں تک بے حد تیز سفر میں مصروف ہے۔ وہ ہر آن ایک بہت بڑے کارخانہ کی طرح کام کر رہی ہے۔ مگر اس میں کہیں بھی شور سنائی نہیں دیتا۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ وہ خاموش جد و جہد کا طریقہ اپنائے ، شور وغل کی سیاست چلانے سے مکمل پر ہیز کرے ۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page