توحید کی عملی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
قابل پیشین گوئی کردار ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اتنی صحت کے ساتھ حرکت کرتی ہے کہ مستقبل کے واقعات کا پیشگی اندازہ کیا جا سکتا ہے (یونس ۵) وہ مکمل طور پر قابل پیشین گوئی (Predictable) ہے۔ یہی چیز انسان سے بھی اس کی زندگی میں مطلوب ہے۔ انسان کو اتنا پابند اور اتنا ذمہ دار ہونا چاہئے کہ پیشگی طور پر یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کس موقع پر اس کی طرف سے کس قسم کا رد عمل ظاہر ہو گا۔ کوئی معاملہ کرتے وقت پہلے سے یقین کیا جا سکے کہ کون سا رویہ اس کی طرف سے سامنے آئے گا۔ اس کے قول پر اسی طرح بھروسہ کیا جا سکے جس طرح اپنی گھڑیوں کو درست کرنے کے لئے ہم سورج کی رفتار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
توافق ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تمام اجزاء، حد درجہ توافق (Harmony) کے ساتھ عمل کرتے ہیں (دیٹس ۴۰) سورج اور چاند کبھی ایک دوسرے کے حریف یں بنتے۔ ستاروں اور ستاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور دھوپ اور مٹی سب آپس میں کامل ہم آہنگ ہو کر کام کرتے ہیں۔ تقریباً ایک سو عناصر اور ان سے بنے ہوئے بے شمار مادی مجموعے اس قدر متوافق طور پر اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں کہ ان میں کبھی باہمی آویزش کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اب انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ باہمی کش مکش سے مکمل طور پر بچتے ہوئے اپنے اپنے حصہ کا کام انجام دے۔ ہر انسان دوسرے انسان سے ٹکرائے بغیر اپنا فریضہ حیات پورا کرے۔ نتیجہ پسندی ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں ہمیشہ ایک مفید انجام کی طرف جاتی ہیں (رعد (۱۷) زمین کی گردش، رات دن کا آنا جانا، بارش کا برسنا اور موسموں کا بدلنا، اور دوسری تمام سرگرمیاں نتیجہ پسند (Result Oriented) ہیں۔ سب کی سب نتیجہ خیز رخ پر سفر کرتی ہیں۔ فطرت کو آنادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو وہ کبھی کسی غیر مفید انجام پر ختم نہیں ہوتی۔ یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کو ہمیشہ نتیجہ رخی، بالفاظ دیگر مفید انجام کا حامل ہونا چاہئے۔ ہر ایسی سرگرمی سے اس کو مکمل طور پر دور رہنا چاہئے جو عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا کوئی ناپسندیدہ نتیجہ برآمد کرنے والی ہو۔ ارتقائی طریقہ ــــ کائنات کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ چھلانگوں میں سفر نہیں کرتی بلکہ ارتقائی انداز میں واقعات کو ظہور میں لاتی ہے (ابراہیم (۲۷) درخت اچانک طلسماتی طور پر زمین کے اوپر کھڑا نہیں ہو جاتا بلکہ طویل مدت کے اندر تدریجی طور پر وجود میں آتا ہے۔ یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔ انسان کو بھی اسی طریقہ کی پیروی کرنی ہے۔ اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ تدریجی اور ارتقائی طور پر نتائج حاصل کرنے کا منصوبہ بنائے نہ کہ چھلانگ لگا کر منزل تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
یکسانیت ــــ۔ کائناتی چیزوں میں ظاہر و باطن کا کوئی فرق نہیں۔ وہ اندر اور باہر یکساں ہیں۔ سورج اپنی ذات میں جیسا ہے، ٹھیک اسی شکل میں وہ دوسروں کے سامنے بھی طلوع ہوتا ہے۔ یہی بات انسان سے قول و عمل کی یکسانی کی صورت میں مطلوب ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ جو اس کے دل میں ہے وہی وہ زبان پر لائے۔ جیسا کچھ وہ عمل میں ہے ویسا ہی لفظوں میں بھی اپنے کو ظاہر کرے۔ اس سے کسی کو منافقت یا دوعملی کا تجربہ ہر گز نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues