Al-Risala · April 1979 · page 17

خدائی اخلاقیات کا ظہور کائنات میں

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷

کیے جائیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور جنت کے دروازے کھولے جائیں گے تو جنت کے فرشتے کہیں گے، سلامتی ہو تم پر۔ خوش رہو۔ جنت میں ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہو جاؤ۔ اہل جنت کہیں گے۔ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے اپنے وعدہ کو سچا کر دیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تو دیکھے گا فرشتوں کو کہ گھیرے رہے ہوں گے عرش کے گرد پاکی بولتے ہوئے اپنے رب کی خوبیوں کی۔ اور تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور یہی بات ہوگی کہ سب خوبی اللہ کے لئے ہے مالک ہے سارے جہان کا“ (زمر۔ آخر)

کائنات میں انتہائی وسیع پیمانہ پر ہر آن یہ دکھایا جا رہا ہے کہ آئندہ بننے والی معیاری دنیا(جنت) میں بسانے کے لئے خدا کو کس قسم کے شہری درکار ہیں۔ اس کو وہ انسان درکار ہیں جو کائناتی اخلاقیات کے معیار پر پورے اتریں ۔ وہ اس دین کو اختیار کریں جو اس نے لفظی طور پر اپنی کتاب میں اور عملی طور پر اپنی کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس سے سبق نہ لیں اور خود اپنے گھڑے ہوئے راستوں پر چلتے رہیں، وہ خدا کی نظر میں بدترین مجرم ہیں۔ خدا کے بتائے ہوئے ”دین“ کے سوا جو دین بھی وہ اختیار کریں گے وہ آخرت میں بالکل بے قیمت ہوگا۔ کیوں کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کا انکار کیا (کہف (۱۰۵) جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے خدا کی نشانیوں کو نہ دیکھیں اور کان رکھتے ہوئے خدا کی آوازوں کو نہ سنیں، وہ خدا کے نزدیک جانور سے بھی زیادہ بدتر ہیں (انفال (۲۲) آئندہ بننے والی دنیا میں ان کا جو انجام ہوگا اس کا اعلان خدا کی کتاب میں ان لفظوں میں کر دیا گیا ہے : ومن اعرض عن ذكرى فان له معيشة ضنكا و نحشره يوم القيامة اعمى۔ - قال رب لم حشرتنى أعمى وقد كنت بصيرا ۔

قال كذ لك اتتك آيتنا فنسيتها وكذلك اليوم تنسى - وكذلك نجزی من اسرف ولم يؤمن بايات ربه ولعذاب الآخرة اشد و ابقى ( طه - ۱۲۴ )

اور جس نے منہ پھیرا میری نصیحت سے تو اس کے لئے (آخرت میں) تنگی کا جینا ہوگا۔ اور قیامت کے روز ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا میرے رب ! تو نے مجھ کو اندھا کیوں اٹھایا۔ میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا۔ ارشاد ہوگا کہ اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس ہماری نشانیاں ۔ پس تو نے ان کو بھلا دیا تو اسی طرح آج تم کو بھلا دیا جائے گا ۔ اس طرح ہم بدلہ دیں گے ہر اس شخص کو جو جو حد سے نکل گیا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی نشانیوں پر ۔ اور یقیناً آخرت کا عذاب بڑا سخت ہے۔

نوٹ : یہ مقالہ سیمینار منعقدہ تعلق آباد سی دہلی (۸جنوری ۱۹۷۹) میں پڑھاگیا۔ سیمینار کا عنوان تھا: خدا کی وحدانیت کے تصورات (Concepts of the Unity of God) ھنائی و دھتائیپ کے سپورٹ (ص ۳۸۶)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page