اسلام دین فطرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸
اسلام دین فطرت
عن ابی عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علکہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا۔ اسلام کی بنیاد یقول : بنی الاسلام علی خمس شهادة ان پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ گواہی دینا کہ اللہ کے لا الہ الا اللہ دات محمد عبدہ ورسولہ سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول و اقام الصلوة و ایتاء الزکوة وحج البیت، ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ و صوم رمضان (روایہ البخاری ومسلم) کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ ہیں کہ اسلام کی تعمیر پانچ ستونوں (خمس دعائم) پر کی گئی ہے (کتاب الصلوة محمد بن نصر المروزی) ایک عمارت اپنی تفصیلی صورت میں بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مگر ساری عمارت جس چیز کے اوپر کھڑی ہوتی ہے وہ چند کھمبے (PILLARS) ہوتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے لئے بھی یہ پانچ چیزیں کھمبے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مضبوط ہونے سے اسلام مضبوط ہوتا ہے اور ان کے کمزور ہونے سے اسلام کمزور ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کی ہستی ایک زمین کی مانند ہے۔ اگر وہ اپنی اس ”زمین“ پر خدا کی پسند والی عمارت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ ان پانچ کھمبوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ قائم کرے۔ ان کھمبیوں کو گاڑے بغیر نہ فرد کی سطح پر اسلام کا ظہور ہو سکتا ہے اور نہ سماج کی سطح پر۔ اسلام آدمی کے اندر جو زندگی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ایک لفظ میں عبادت یا خدا پرستی کی زندگی ہے۔ تاہم اپنی تفصیلی صورت میں وہ پانچ چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے: ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ یہ پانچ چیزیں پانچ رسمیات نہیں ہیں بلکہ پانچ اوصاف ہیں۔ یہ ان مطلوب چیزوں کا خلاصہ ہے جو ہمارا مالک ہماری زندگیوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ پانچ اوصاف آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائیں تو گویا اس کے اندر وہ بنیادی صلاحیت پیدا ہو گئی جس کے بعد یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس کی زندگی میں اس ربانی کردار کا ظہور ہو جس کو اسلام ایک ایک شخص کی زندگی میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایمان کا مطلب خدائی حقیقتوں پر یقین ہے۔ نماز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی بڑائی کے آگے اس طرح جھکے کہ اپنی بڑائی کا احساس اس کے اندر سے ختم ہو جائے ۔ روزہ اللہ کے بھروسے پر صبر کرنے کا نام ہے۔ زکوٰۃ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کا حق پہچانے تاکہ خدا اس کو اس کے حصہ سے محروم نہ کرے۔ حج سے یہ مراد ہے کہ خدا کے بندے خدا کے گرد متحد ہو جائیں ۔ یہ سب اپنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اوصاف ہیں نہ کہ محض خارجی مراسم ۔ گویا یہ یقین، بے نفسی، صبر، حق شناسی اور اتحاد وہ پانچ صفاتی کھمبے ہیں جن کے اوپر اسلامی زندگی کا گھر بنتا ہے۔
۱۔ اللہ کو اپنا الٰہ بنانے کا اقرار اس کو اپنا سب کچھ بنانے کا معاہدہ ہے۔ یہ اللہ کو اپنے احساسات اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues