آخرت کی دنیا
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک شخص نے ناجائز طور پر دوسرے کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر اس کی قانونی خانہ پُری اتنی مکمل تھی کہ ظاہری طور پر اس کے خلاف فیصلہ دینا بھی مشکل تھا۔ آپ نے فرمایا ” تمھاری ہوشیاری کی بنا پر اگر عدالت نے تمھاری موافقت میں فیصلہ دے دیا تو سمجھو کہ اس نے تم کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے، گویا اس آدمی کے عمل کا نتیجہ دنیوی اعتبار سے تو زمین کا ایک محبوب ٹکڑا اٹھا۔ مگر آخرت کے اعتبار سے وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا ایک شعلہ تھا۔ وہ اپنے عمل سے پیچھے کی دنیا میں زمین چھوڑ رہا تھا اور آگے آخرت کی دنیا میں آگ بھیج رہا تھا۔ اسی طرح نیک اعمال کا معاملہ بھی ہے۔ امام احمد نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول غصہ کے بارے میں نقل کیا ہے : ما تجرع عبد جرعة من لبن أو عسل خير من کسی بندہ نے غصہ کے گھونٹ سے بہتر دودھ یا شہد جرعة غیظ کا گھونٹ نہیں پیا۔
غصہ کو پی جانا دنیا کے اعتبار سے انتہائی کڑوا گھونٹ ہے۔ مگر اس عمل کا جو اخروی ثمنی ہے، وہ دودھ اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہوتی ہے (ان شدة الحر من فيح جهنم) اسی طرح حدیث معراج میں ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو وہاں آپ نے چار نہریں دیکھیں۔ دو نہریں اورر بہتی تھیں اور دو باہر۔ جبریل نے بتایا کہ اندر اندر بہنے والی نہریں تو بہشت کے دریا ہیں اور اوپر اوپر بہنے والے نیل اند فرات ۔ گویا موجود دنیا اور آخرت کی دنیا ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں۔ دنیوی پہلو حقیر اور عارضی ہے۔ اخروی پہلو بہتر اور مستقل ۔ آج ہم دنیوی پہلو سے دو چار ہیں۔ موت کے بعد ہم اخروی پہلو سے دوچار ہوں گے۔
انسانی عمل کے اس دوگنہ پہلو کو حدیث معراج میں مختلف تمثیلات کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔
بستی میں ایک شخص ہے۔ اس نے اپنی محنت اور جدوجہد سے اپنے لئے ہر قسم کی عزت اور خوش حالی جمع کر لی ہے۔ وہ جب کسی مجلس میں داخل ہوتا ہے تو اچانک ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مجلس کا سردار آگیا ہے۔ اسی بستی میں دوسرا شخص ہے۔ وہ بالکل ناکام ہے ، اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار لینے کے باوجود وہ اپنی مفلوک الحالی کو ختم نہ کر سکا۔ اگر وہ مجلس میں آجائے تو کوئی اس کو اہمیت نہیں دیتا، حتیٰ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کوئی آدمی مجلس میں آیا ہی نہیں ۔ دونوں بظاہر ایک ہی قسم کے انسان ہیں۔ دونوں یکساں قسم کے ہاتھ پاؤں کے ساتھ آتے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی عزت یا اپنی مفلسی کا پشطارہ لے کر نہیں آتا۔ اس کے باوجود دونوں میں اتنا زیادہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ آدمی کا وہ دہر اوجود ہے جس کو ”حیثیت“ کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے دکھائی دینے والے وجود کے ساتھ اپنی نہ دکھائی دینے والی حیثیت کو بھی لئے ہوئے ہوتا ہے۔ ظاہری جسم آدمی کو پیدائشی طور پر ملتا ہے اور غیر محسوس حیثیت کو آدمی اپنی کوششوں سے بناتا ہے۔ اسی طرح آدمی کا ایک دنیوی وجود ہے اور ایک اخروی وجود ۔ دنیوی وجود پیسے اور اقتدار سے بنتا ہے اور اخروی وجود خدا ترسی اور نیک عمل سے ۔ آج کی دنیا میں آدمی اپنے دنیوی وجود کے ساتھ جی رہا ہے اور آخرت میں وہ اپنے اخروی وجود کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues