آخرت کی دنیا
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
ایک مرتبہ میں ایک بڑے سرکاری افسر سے ملا۔ شام کا وقت تھا۔ ہم لوگ ان کے شان دار بنگلہ کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ " مولانا صاحب " اچانک انھوں نے کہا " ہم لوگوں کی زندگی بھی کیسی بری زندگی ہے۔ اب دیکھیے ۔ کل صبح کو سورج نکلنے سے پہلے مجھے ہوائی اڈہ پر جانا ہے۔ فلاں ملک کی اعلیٰ سیاسی شخصیت کا ہوائی جہاز ہماری زمین پر اترے گا۔ مجھ کو نہ صرف اپنی نیند کو چھوڑ کر ہوائی اڈہ پر پہنچنا ہے بلکہ دل میں نفرت کے باوجود مسکرا کر ان کا استقبال بھی کرنا ہے۔ " یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے لوگوں کی زندگیاں کس طرح دو رخی ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک پہلو کار اور کوٹھی اور عزت اور اقتدار ہے۔ مگر اس کا ایک اور پہلو ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہ چیزیں نہیں کن باتوں کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔ اگر آپ کسی بڑے آدمی کے اندر جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس چمک دمک کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو مصلحت پر راضی کیا ہے، خوشامد ، موقع پرستی، مصلحت پسندی ، زمانہ سازی ، بے ضمیری ظاہر داری، دغلی، ، یہی وہ چیزیں ہیں جن کی قیمت ان کو ایک شان دار زندگی کی صورت میں ملتی ہے۔ ہر بڑے آدمی کی زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک شان دار، دوسرا تاریک اور بے روح۔ وہ اپنے " انسانی وجود " کو قتل کرنے پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ " حیوانی وجود " کی سطح پر اس کو جاہ و حشم کی ایک زندگی حاصل ہو سکے۔ عام انسان کی زندگی کے بھی اسی طرح دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مزدور مئی جون کی گرمی میں کھلی دھوپ میں کام کر رہا ہے۔ وہ سر سے پاؤں تک پسینہ میں شرابور ہے۔ مگر اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ وہ کیوں اپنے آپ کو مشقت کی آگ میں جلاتا ہے، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس دھوپ "، کا ایک " سایہ " بھی ہے۔ اس کی مزدوری کا ایک پہلو گرمی اور لو میں جھلسنا ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ شام کو چند روپے حاصل کرے گا جس سے اس کے نبوی بچوں کی ضرورتیں پوری ہوں گی اور وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے گا۔
کسی عمل کے دورخ ہونے کا یہ وہ پہلو ہے جو صرف دنیوی اعتبار سے پایا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بھی عمل کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ہر عمل جو آدمی اس دنیا میں کرتا ہے ، اس کا ایک رخ وہ ہے جو دنیا میں نظر آتا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو آخرت میں مرتب ہو رہا ہے۔ آج ہم اپنے عمل کے دنیوی پہلو کو بھگتتے ہیں۔ کل ہم اپنے عمل کے اخروی پہلو کو پائیں گے آج ہم زندگی کے ایک سمت میں کھڑے ہیں۔ اس لئے ہم کو اعمال کا ایک ہی رخ دکھائی دیتا ہے۔ قیامت ہم کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دے گی جہاں دونوں رخ ہمارے سامنے آجائیں گے۔ جس طرح دیوار کے اوپر کھڑا ہوا آدمی دیوار کے دونوں طرف دیکھتا ہے اسی طرح قیامت کے عالم میں پہنچ کر آدمی حقیقت کے دونوں رخ کو دیکھنے لگے گا۔ ایک طرف پھیلی زندگی کی پوری تاریخ بچپن سے موت تک لمبی فلم کی طرح اس کے سامنے کھلی ہوگی۔ دوسری طرف اس کی بنائی ہوئی تاریخ کے اخروی نتائج بالکل برہنہ ہو کر آنکھوں کے سامنے کھڑے ہوں گے :
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرْتُ (الانفطار ) اس دن آدمی جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا۔
دنیا کا کام دنیا میں رہ جائے گا اور آخرت کی زندگی کے لیے وہی چیز کار آمد بنے گی جو آخرت کے لیے کی گئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues