فطرت سے بغاوت کے بعد
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸
آپ اپنے رب سے امید وار ہیں کہ وہ آپ کی کو تاہیوں کو نہ دیکھے بلکہ اپنی شان کریمی کے تحت آپ سے معاملہ فرمائے، اگر آپ فی الواقع اس پکار میں سچے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوںنا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں جب آپ کا معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے اوپر آپ قابو یافتہ ہوں تو آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی بے بسی یاد آ جائے اور آپ اس کی کو تاہیوں سے درگزر کریں۔ آپ کو اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ آپ اس کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سے دعاکرتے رہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ جب کوئی انسان آپ کی گرفت میں آ جائے تو آپ اس کے ساتھ غصہ اور انتقام کے تحت کارروائی نہ کریں بلکہ فیاضی اور حسن سلوک کے ساتھ معاملہ کر کے اللہ سے کہیں کہ خدایا تو بھی مجھ سے فیاضی کا معاملہ فرما۔ آپ اللہ کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنی عاجزی کا اعتراف کر رہے ہیں، اس اعتراف میں آپ اس وقت سنجیوہ ہیں جب کہ آپ کا یہ حال ہو کہ آپ ایک انسان پر قدرت پالیں اور اس پر اپنی کبریائی کا مظاہرہ کر سکتے ہوں مگر اس وقت آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت یاد آ جائے اور آپ اپنے رب سے یہ کہتے ہوئے اس شخص کو چھوڑ دیں کہ خدایا میں نے اس سے درگزر کیا تو بھی مجھ سے درگزر فرما۔ اس کے برعکس اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ اللہ کے سامنے عاجزی کے کلمات دہرائیں اور اس کے بعد بندوں کے ساتھ گھمنڈ اور سرکشی کا طریقہ اختیار کریں۔ اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں اور اپنے بھائی کی خطائیں معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اللہ سے امید وار ہوں کہ وہ آپ کی حاجتیں پوری کرے اور آپ کا سابقہ جب کسی دوسرے محتاج انسان سے پڑے تو اس کی حاجت پوری کرنے کا کوئی جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دعا کے ساتھ عمل صالح (دعا کے موافق عمل ) نہیں کر رہے ہیں۔ آپ اپنی دعا میں محسن نہیں ہیں۔ ایسی دعا کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ ایسی دعا حقیقتاً دعا نہیں بلکہ سوا نگ ہے اور سوا نگ کسی شخص کو سزا کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام کا۔
دعا کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ برکت والے الفاظ ہیں ، ان کو رٹ کر صحت ادا کے ساتھ دہرادو اور پھر ان کے جادوئی اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔ خدا اور بندے کا معاملہ اس قسم کا مشینی معاملہ نہیں ہے۔ خدا الفاظ کو نہیں خود آپ کی ہستی کو دیکھتا ہے۔ خدا کو وہ کلمات درکار ہیں جو آدمی کی اپنی پکار بن کر نکلے ہوں۔ جو اس واقعہ کا ایک فطری اظہار ہو کہ بندہ صرف ایک اللہ سے ڈرتا ہے اور صرف اسی سے امید رکھتا ہے۔ اس کے احساسات اپنے رب سے اس طرح وابستہ ہو گئے ہیں کہ ہر آن وہ اس سے مصروفِ کلام رہتا ہے، کبھی دل سے اور کبھی زبان سے۔ دعا دراصل پگھلے ہوئے دل کا بیتابانہ طور پر باہر نکل آنا ہے۔ جب کوئی بندہ اس معنی میں دعا کرنے والا بن جائے تو اس کا پورا وجود دعامیں ڈھل جاتا ہے۔ دعا کے الفاظ اور اس کی ہستی الگ الگ نہیں رہتے۔ وہ اندر سے بھی وہی ہوتا ہے جو بظاہر دعا میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی دعا جس طرح خدا کے سامنے اس کے سوال کا مظہر ہوتی ہے اسی طرح دہ بندوں کے مقابلہ میں اس کے کردار کو بتاتی ہے۔ یہ ایک ہی حقیقت ہے جو خدا کے سامنے تضرع کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور بندوں کے مقابلہ میں تواضع اور عدم استکبار کی صورت میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues