ذمہ دار کون
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
اس قسم کی باتیں خواہ مسخرہ پن کے طور پر کہی گئی ہوں یا سنجیدگی سے، ہر حال میں وہ ہماری ذمہ داری کو بڑھاتی ہیں۔ کہنے والے نے یہ بات اگر سنجیدگی سے کہی ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابھی اپنی پڑوسی قوموں کو اسلام سے آگاہ نہیں کیا۔ اور اگر انھوں نے تمسخر کے طور پر یہ بات کہی ہو تو تب بھی ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ کیوں کہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی عظمت لوگوں کے دلوں پر قائم نہیں۔ اگر ہم اپنے حالات اور اپنی زندگیوں سے اپنی عظمت لوگوں کے اوپر قائم کر چکے ہوں تو کسی کو جرات نہیں ہوگی کہ ہمارے دین کے بارے میں اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالے پچھلے ہزار سال کی تاریخ اس کی گواہی دینے کے لئے کافی ہے۔
ذمہ دار کون
۱۔ ایک شخص حقہ پی رہا تھا۔ اتنے میں مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی "اللہ اکبر، اللہ اکبر اس کی چھوٹی لڑکی نے پوچھا: یہ مسجد کے ملاجی کیا کہہ رہے ہیں۔ " تم سمجھی نہیں، باپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا " وہ کہہ رہے ہیں، اللہ حقہ بھر، اللہ حقہ بھر ۲۔ ایک سیاح دہلی کی جامع مسجد دیکھنے آیا۔
وہ سیڑھی پر چڑھ رہا تھا کہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز بلند ہوئی " اللہ اکبر، اللہ اکبر سیاح نے گیٹ پر کھڑے ہوئے ایک مسلمان سے کہا: "میاں جی ! مسجد تو شاہجہاں نے بنوائی ہے۔ یہ اکبر کا نام کیوں لے رہے ہیں ۔ "
دین کی کوئی تشریح لفظوں ہی میں کی جاسکتی ہے۔ مگر انسانی الفاظ دین کی حقیقت کو بتانے کے لئے اسی طرح ناکافی ہیں جس طرح پھول کی حقیقت کو بتانے کے لئے یہ جملہ کہ: "پھول ایک رنگین اور خوشبو دار چیز ہے، گلاب کا درخت ساری کائنات سے غذا لے کر رنگ اور خوشبو اور لطافت کے جس حسین مجموعہ کو اپنی ٹہنی پر کھلاتا ہے، اس کو وہ شخص تو کچھ سمجھ سکتا ہے جو اس کو سونگھ رہا ہو اور دیکھ رہا ہو۔ مگر جس آدمی کے سامنے صرف مذکورہ بالا الفاظ ہوں وہ نہیں جان سکتا کہ گلاب کا پھول حقیقت کس چیز کا نام ہے۔ آپ فقہ کی کتاب میں نماز کا باب پڑھیں تو آپ کو نماز کے بارے میں ساری تفصیلات لکھی ہوئی مل جائیں گی۔ مگر کتاب کے الفاظ کے ذریعہ آپ جس نماز سے واقف ہوں گے، وہ بعض حرکات کا محض ایک خشک ڈھانچہ ہوگا۔ لیکن یہی نماز جب ایک بندہ مومن کی زندگی میں ڈھلتی ہے تو وہ لذتوں اور کیفیتوں کی ایک اتھاہ کائنات بن جاتی ہے۔ یہی پورے دین کا معاملہ ہے۔ دین کو "جاننے" کے لئے الفاظ کا مطالعہ کافی ہو سکتا ہے۔ مگر دین کو "پانے" کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس "مطلع" پر پہنچائے جہاں پہنچ کر آدمی اس کو دیکھنے اور سونگھنے لگتا ہے۔ آدمی اپنے آپ کو کسی تحفظ کے بغیر خدا کے حوالے کر دے۔ وہ دنیا میں سانس لینے کے بجائے آخرت میں سانس لینے لگے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر فطرت اللہ کی حالت کو پہنچ جائے ۔ وہ دین کو اپنی زندگی کا ضمیمہ بنانے کے بجائے اس کو اپنا سب کچھ بنا چکا ہو۔ اس کے بعد ہی کوئی شخص صحیح معنوں میں دین سے آشنا ہو سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues