Al-Risala · May 1979 · page 1

دو رو په

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱

یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی مدتِ خریداری ختم ہو چکی ہے۔ براہ کرم اپنا زرِ تعاون بذریعہمنی آرڈر بھیج کر شکریہ کا موقع دیں _ _ _ مینیجر الرسالہ الرساله شماره ۳۰ مئی ۱۹۴۹ جمعیۃ بلڈنگ ٭ قاسم جان اسٹریٹ ٭ دہلی ۶ نئی دہلی کا راشٹرپتی بھون ، پارلیمنٹ ہاؤس اور اور دوسری عالی شان عمارتیں انگریزوں کی تعمیر کی ہوئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ عمارتیں بن کر تیار ہوئیں تو کناڈا کے ایک بڑے سرکاری عہدیدار نے نئی دہلی کا دورہ کیا۔ اس نے شان دار دار السلطنت کو دیکھ کر کہا : What a magnificent world they built to leave. انھوں نے کیسی شان دار دنیا بنائی ہے صرف اس لئے کہ وہ اس کو چھوڑ دیں۔

مذکورہ مغربی لیڈر کے سامنے صرف سیاسی اندیشے تھے۔ مگر موت کا اندیشہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے جو ہر ایک کے پیچھے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ ہر آدمی زمین پر یا کم از کم اپنے ذہن میں ایک عالی شان دنیا تعمیر کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اس کو خبر نہیں کہ بہت جلد موت کا طوفان اس کو اس طرح ڈھا دے گا، جیسے کہ اس کا سارا محل صرف ریت پر کھڑا ہوا تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page