دو رو په
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"الرسالہ ایک قسم کی فیکٹری ہے" ایک تعلیم یافتہ شخص نے کہا "اس میں نظریاتی ہتھیار ڈھالے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے مسلح ہوں اور اپنی گفتگوؤں، تقریروں اور تحریروں میں ان کو استعمال کریں۔ " الرسالہ کے بارہ میں یہ تبصرہ بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ کا مقصد لوگوں کو دینی ہتھیار فراہم کرنا ہے۔ ہمارے گردو پیش بے شمار معلومات بکھری ہوئی ہیں۔ تا ہم ان معلومات کی مثال، ابتدائی حالت میں، سونے کی کان جیسی ہے۔ مٹی اور پتھر کے انبار میں جس طرح سونے کے ذرات چھپے ہوتے ہیں جن کو دیدہ ریزی کے ساتھ چن کر الگ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح معلومات کے اس ڈھیر میں وہ چیزیں بکھری ہوئی ہیں جو دینی پہلو رکھتی ہیں، جن سے دینی محاذ کو تقویت پہنچ سکتی ہے۔ الرسالہ میں یہ کیا جاتا ہے کہ معلومات کے انبار سے دینی اہمیت کی چیزوں کو چھانٹ کر الگ کیا جاتا ہے اور ان کو جدید اسلوب میں مرتب کر کے قارئین کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک طرف اس سے خود اپنے لئے دینی غذا حاصل کریں اور دوسری طرف ان کے ذریعہ دوسروں کے اوپر دعوت کا کام کریں۔
الرسالہ کے ادارہ سے شائع ہونے والی کتابوں کی نوعیت بھی یہی ہے۔ الرسالہ میں جو چیز" صحافتی" سطح پر انجام دی جارہی ہے وہی ان کتابوں میں "تصنیفی" سطح پر انجام دینا مقصود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ اور اس کی کتابیں ہر طبقہ اور ہر حلقہ کے مسلمانوں کے لئے وقت کا اسلامی تحفہ ہیں۔ ان میں ہر ایک کے لئے غذا اور ہر ایک کے لئے مواد ہے۔ ان سے ہر ایک یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
فہرست ریت کی تعمیر اداریہ آخری انجام قبر ہے انگلستان آج اسلامی ملک ہوتا با معنی کائنات بے معنی انجام نہیں ہو سکتا آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے درخت کی زبان سے پہلے کچھ سہنا پڑتا ہے خوش خیالی حقیقت کا بدل نہیں ہو سکتی اخلاص کی پہچان اسلام کے نام پر اسلام کا قتل خود نمائی کے شوق میں دین کیا ہے یہ ہنگامہ آرائی کا وقتی اسٹیج نہیں اپنا حساب آپ کر لو لطیفوں سے استدلال پاک کو ناپاک سے جدا کیا جانا آخرت کے باغوں میں جگہ پانے والے وقت کا سوال نہ کہ قیمت کا یہ اپنی کمزوری کا اعلان ہے اسلامی زندگی سیرت کی روشنی میں ملت کی تعمیر کے لئے تبدیلی مذہب پر پابندی کا قانون روداد سفر کوئی سننے والا ہے جو سنے اقامت دین کے بارے میں