Al-Risala · May 1979 · page 7

با معنی کائنات بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۷

کوئی جنت کے دروازے کھولنا چاہتا ہے مگر وہ کانٹوں اور آگ کے شعلوں میں پڑا ہوا ہے کیا یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی اپنی کارگزاری دکھا کر ختم ہو جائیں گے اور اس کے بعد دونوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہونا ہے ۔ کیا کوئی ایسی دنیا نہیں جہاں دونوں کا فرق ظا ہو۔ کیا یہ دنیا عیاروں اور باطل پرستوں کی تماشاگاہ ہے۔ کیا خدا نے یہ عظیم اہتمام اس لئے کیا ہے کہ یہاں حق پرستوں کے اوپر کتے بھونکیں اور جہاد کریں ، بھیڑیے ان کا خون پئیں ۔ کیا دنیا کا اسٹیج اس لئے ہے کہ کچھ لوگ یہاں اپنی شیطانی ہوس کی تسکین حاصل کریں اور کچھ لوگ ان کی ہوس کا شکار ہوتے رہیں۔ اور اس کے بعد یہ سارا ڈرامہ یوں ہی ختم ہو جائے ۔ ایسا ناممکن ہے۔ کائنات کی بے پناہ معنویت اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ اس کا خاتمہ ایسے بے معنی انجام پر نہیں ہو سکتا ۔ یعنی کائنات صرف با معنی انجام پر ہی ختم ہو سکتی ہے ۔ موجووہ دنیا اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ نامکمل ہے اور اس کا نامکمل ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد ایک آخرت ہو جہاں ہر ایک کو جانچا جائے اور اس کے عمل کے مطابق اس کو اچھا یا برا مقام عطا کیا جائے ۔

درخت میں غلط کھاد ڈالئے تو وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا اور جب آپ اس کو صحیح کھاد اور پانی پہنچاتے ہیں تو وہ ایک ہری بھری کائنات کی صورت میں زمین کے اوپر ابھرتا ہے۔ وہ رنگ اور خوشبو اور ذائقہ دیتا ہے ۔ وہ تازہ مہا کھیتا ہے اور زمین کی خوش نمائی میں اضافہ کرتا ہے ۔ اور بے شمار دوسرے فائدے پہنچاتا ہے۔ یہی حال اس درخت کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں ، جو شخص خدا کے قانون کے مطابق اپنے وجود کی صحیح نگہداشت کرے گا ، جو اپنی ہستی کو صالح خوراک پہنچائے گا وہ خدا کی زمین میں پھلے پھولے گا اور آخرت میں ایک عالی شان باغ کی صورت میں نمایاں ہوگا۔ وہ خوشیوں اور لذتوں کی ایک ایسی کائنات کی شکل اختیار کرے گا جس کی بہاریں کبھی ختم نہ ہوں، جس کے امکانات کی کوئی حد نہ ہو۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنی ہستی کے درخت کو غلط پانی دیں اور اس کی جڑوں میں دہ کھاد ڈالیں جو خدا نے اس کے لئے مقرر نہیں کی ہے۔ ایسے لوگ اپنے درخت کو ٹھنڈ بنا رہے ہیں۔ وہ اس کے اجاڑ کی صلاحیت کو فنا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت کی دنیا میں اس حال میں پہنچیں گے کہ ان کے پاس درخت حیات کے نام سے سوکھی لکڑیوں کے سوا اور کچھ نہ ہو گا ۔ جو جہنم میں جلنے کے لئے ڈال دی جائیں ۔ اس قسم کے لوگ موجودہ دنیا میں اگر بظاہر ہر تر و تازہ دکھائی دیتے ہوں تو یہ بھی ان کے اوپر خدا کے غضب کی ایک صورت ہے۔ خدا ان کو مہلت دے کر یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ظاہری سرسبزی سے دھوکے میں پڑ جائیں اور مزید سرکشی کرکے اپنے جرم کو اور زیادہ ثابت کر دیں ۔ دنیا میں آدمی اپنے گرد و پیش اعوان وانصار کو دیکھ کر غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں اپنے مددگاروں کے ذریعہ میں اپنے کام بنا رہا ہوں اسی طرح آخرت میں بھی بنالوں گا۔ مگر یہ زبردست بھول ہے۔ آخرت میں آدمی اس حال میں پہنچے گا کہ ہر قسم کا سہارا اس سے دور ہو چکا ہو گا ، وہاں وہی شخص سہارے والا ہوگا جس کا خدا سہارا بنے۔ آخرت میں وہ تمام الفاظ بے معنی ہو جائیں گے جو دنیا میں لوگوں کو با معنی نظر آتے ہیں اور نہ تمام طاقتیں بالکل بے زور ثابت ہوں گی جن کے بل پر آدمی آج اپنے کو طاقت ور سمجھے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page