Al-Risala · May 1979 · page 8

جب آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۸

جب آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے

عن خباب ابن الارت قال صلی بنارسول الله صلى الله عليه وسلم صلوة فانا طالبها ۔ قالوا يا رسول الله صليت صلواتِ لم تکن تصليها ۔ قال اجل۔ انها صلوة رغبة ورهبة دانی سالتُ اللهُ فيهاثلثا فاعطاني ثنتين ومنعنی واحدةً ۔ سالتُه ان لا يُهلكَ امتی بسُنَّةٍ فاعطانيها و سالته ان لا يُسلّط عليهم عد قاً من غيرهم فاعطانيها وسالته ان لا يبدق بعضهم باس بعض فمنعنيها (مسلم ، ترمذی، نسائی)

خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایک نماز پڑھی اور اس کو لمبا کیا۔ لوگوں نے کہا: اے خدا کے رسول آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپ نے اس سے پہلے نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ یہ امید اور خوف کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں۔ اللہ نے دو چیزیں دے دیں اور ایک سے انکار فرما۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کیا جائے۔ یہ قبول ہوگئی۔ میں نے درخواست کی کہ ان کے اوپر ان کے باہر کے دشمنوں کو مسلط نہ فرمایا۔ یہ قبول ہو گئی۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت کے بعض کی طاقت کا مزا بعض کو نہ چکھائے ۔ مگر یہ منظور نہیں ہوئی ۔

مسلمان اس سے محفوظ کر دیئے گئے ہیں کہ وہ ارضی و سماوی آفتوں سے ہلاک کئے جائیں ۔ وہ اس سے بھی محفوظ ہیں کہ ان کا کوئی خارجی دشمن ان کے اوپر مستقل قبضہ پالے ۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جہاں وہ خدا کی حفاظت میں نہیں ہیں۔ وہ یہ کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی طاقت کا مزا چکھنا پڑے۔ یہی وہ اصل مقام ہے جہاں مسلمانوں کا امتحان لیا جارہا ہے۔ اگر یہاں بھی ان پر حفاظت قائم کردی جاتی تو ان کا امتحان ختم ہوجاتا ، اور یہ قیامت سے پہلے کسی کے لئے ممکن نہیں۔

جب بھی ایسا ہو کہ ایک مسلمان اپنی طاقت کو دوسرے مسلمان کے خلاف استعمال کرنے لگے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ اس حد میں داخل ہوگیا جہاں خدا نے اپنے رسول کی دعا کے باوجود اس کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دکھ پہنچائے ، وہ موقع پا کر اس کے اوپر چڑھ دوڑے ، وہ اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کو زک دینے کے درپے ہو جائے ، وہ اپنی حیثیت کو دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرے تو گویا یہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی اللہ کی پہریداری سے باہر نکل گیا۔ اب وہ شیطان کی حمایت میں ہے۔ اس نے اپنے آپ کو شیطان کے قابو میں دے دیا ہے اور شیطان اس کو اندھا بنا کر اس سے وہ کام کروا رہا ہے جو اللہ نے اس کے لئے دائمی طور پر حرام قرار دیا تھا۔ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کو اپنی طاقت کا مزہ چکھانا، اس کے لئے خوشی کا نہیں بلکہ ماتم کا وقت ہے ایسا ہر واقعہ اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی رسول کی شفاعت کے حق سے محروم ہوگیا ہے ، اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں نہ اللہ اس کا ساتھی ہے اور نہ اللہ کا رسول ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page