Al-Risala · May 1979 · page 11

اسلام کے نام پر اسلام کا قتل

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱

اسلام کے نام پر اسلام کا قتل

پونتا کارتا (انڈونیشیا) کے مسلم اسکول میں طالب علموں نے ایک تصویری پوسٹ کارڈ چھاپایا۔ اس میں ایران کے مذہبی قائد آیت اللہ خمینی کی تصویر تھی۔ پوسٹ کارڈ کی تقسیم سے پہلے حکومت کو اس کی خبر ہوگئی اور انڈونیشی پولیس نے تمام پوسٹ کارڈ ضبط کرلے (ٹائمس آف انڈیا ۲۱ فروری ۱۹۷۹) اس قسم کی خبریں دوسرے مسلم ملکوں سے بھی مل رہی ہیں۔ مسلم حکمران کے زیر اثر قائم شدہ ایرانی اسلامی حکومت کو اگرچہ سرکاری طور پر مبارک باد کے تار بھیج رہے ہیں مگر خود اپنے ملک میں " خمینی افکار " کی درآمد کو وہ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بظاہر کامیاب تحریک عملاً الٹا اثر پیدا کر رہی ہے۔ وہ اسلام کی کامیابی کے نعروں کے جلو میں اسلام کے لئے کام کرنے کے مواقع کو برباد کر رہی ہے۔ پاکستان ، ایران اور بعض دوسرے ملکوں میں مسلم رہنماؤں نے اپنے سیاسی عزائم کے لئے " اسلامی حکومت " کے لفظ کو ایک کامیاب عوامی نعرہ بنتا ہے۔ مگرار ' ام کو سیاسی نعرہ بنانا اسلام کو اسلام کے نام پر قتل کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی مسلم ملک اپنے معاشرتی حالات کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ اسلامی حکومت کے قیام کی زمین بن سکے۔ مزید یہ کہ جو لیڈر اس قسم کی تحریک چلا رہے ہیں وہ خود بھی اسلامی قیادت کے اوصاف سے بالکل خالی ہیں۔ ایسی حالت میں اسلامی حکومت کا نعرہ صرف تخریبی کارروائیوں کے لئے ایک کامیاب ہتھیار بن سکتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں کوئی تعمیری نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تحریکوں کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اسلام کا لفظ مسلم حکمرانوں کے لئے اسی طرح سیاسی خطرہ کے ہم معنی بنایا جا رہا ہے جس طرح ، مثال کے طور پر ، کمیونزم کا لفظ امریکی حکمرانوں کے لئے بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں اسلام کے نام پر کوئی دیر پا کام کرنا دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین اگرچہ اسلام کے نعرہ پر اٹھے ہیں مگر وہ جس زمین پر کھڑے ہوئے ہیں وہ سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین ہے نہ کہ حقیقۃ اسلام کی طلب کی زمین ۔ آزادی اور جمہوریت اور سوشلزم کے علم بردار جس عوامی بے چینی کو استعمال کرکے اپنی سیاسی تحریکیں چلا رہے ہیں، اسی بے چینی کو مسلم قائدین اسلام کے نام پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ اس قسم کی تحریکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفروضہ غیر اسلامی حکومت کو اکھاڑنے کے بعد جب مطلوبہ اسلامی حکومت بنانے کا سوال ہوتا ہے تو قائدین اور ان کا ساتھ دینے والی بھیڑ دونوں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں جو مادی سیاسی تحریکیں اٹھیں انھوں نے ہر ملک میں " عوام دشمن " حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا مگر وہ حقیقی عوامی حکومت قائم نہ کرسکیں ۔ یہی انجام اسلامی تحریکوں کے لئے بھی مقدر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صالح دینی نظام قائم کر سکتی ہے جو دینی محرکات کے تحت اٹھی ہو۔ سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین سے ابھرنے والی تحریکیں صرف نیا فساد برپا کریں گی ، وہ ہرگز کوئی صالح نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں ۔ منفی بنیادوں پر جو اتحاد پیدا ہو وہ ہمیشہ انتشار پر ختم ہوتا ہے اور مخالفانہ قسم کا سیاسی شور و شر بالآخر بدترین بے عملی پر۔ ایمان کے واقعات میں جن لوگوں کو اسلام کا سورج ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے، بہت جلد وہ دیکھ لیں گے کہ ان کی یہ رائے سطحی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ (۲۲ فروری ۱۹۷۹)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page