Al-Risala · May 1979 · page 10

درخت کی زبان سے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰

موجووہ زمانہ میں بعض مسلم حکمرانوں نے اپنی حکومت کے استحکوم کی یہ آسان تدبیر دریافت کی ہے کہ اسلام کے نام پر کوڑے مارو اور خوفناک سزائیں جاری کرو، تاکہ عوام اور انقلاب پسند عناصر سہم جائیں اور ان کی آمریت کے خلاف اٹھنے کی ہمت نہ کریں۔ قدیم زمانہ میں بادشاہوں کو ایسے علماء مل جاتے تھے جو ان کی ہوسِ نکی کے منصوبوں کے لیے شرعی سند عطا کرتے رہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے ان حکمرانوں کی خوش قسمتی سے ان کو ایسے افراد اور ادارے مل گئے ہیں جو ان کے تاریک منصوبوں کے حق میں یہ فتوی دے سکیں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے، صرف اس قیمت میں کہ ان کو کچھ نذرانے اور اعزازی عہدے حاصل ہوجائیں۔

مگر اسلام کوڑے مارنے اور ہولناک سزائیں جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس قسم کی حدود اور تعزیرات اسلام کے پورے با معنی وجود سے بس اتنی ہی نسبت رکھتے ہیں جیسے ایک زندہ انسان کا اپنے بڑھے ہوئے ناخن کا کاٹنا۔ اسلام خدا کی رحمتوں کا دین ہے، وہ جنتی فضاؤں کا دنیوی ظہور ہے۔ وہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا موت سے پہلے والی دنیا میں مظاہرہ ہے۔ یہ جنت کے شہریوں کا دنیا میں اتر آنا ہے۔ وہ ملکوتی اوصاف جو کسی بندہ خدا کو جنت کی ناقابل بیان خوشیوں کا مستحق بناتے ہیں، جب ایسے اوصاف کے لوگ اقتدار کے مناصب پر قبضہ پالیں تو اسی کا دوسرا نام اسلامی نظام ہے۔ اسلامی نظام وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو آسمانوں والے خدا کو زمین پر کھڑا ہوا دیکھتے ہوں۔ جو اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس حد تک گم کر چکے ہوں کہ اپنی ذات کے منصوبے ان کے لیے باقی نہ رہیں۔ اسلامی نظام برپا کرنے والے وہ ہیں جو دوسرے کے درد پر تڑپتے ہوں۔ جو دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہوں۔ جن کا حال یہ ہو کہ ذمہ داریوں کا احساس ان سے زندگی کی خوشیاں چھین لے۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا فکر ان کے لیے اقتدار کی کرسی کو کانٹوں کی کرسی بنا دے۔ جو حکومتی مواقع کے ملنے پر آنسو بہانے والے ہوں نہ کہ قہقہہ بلند کرنے والے۔

زمین کے اوپر جب ایک درخت کھڑا ہوتا ہے اور اپنی سرسبز ٹہنیوں میں پھول اور پھل لگاتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ ترین کائناتی منصوبہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام گویا انسانی سماج میں خدا کا شری پھول اور پھل اگانا ہے۔ یہ ایک انتہائی لطیف اور انتہائی مشکل منصوبہ ہے۔ جس طرح ایک درخت طویل مدت تک خاموش عمل میں مصروف رہنے کے بعد اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے ہریالے تن کے اوپر رنگ اور مزہ اور خوشبو کا وہ فرحت بخش مجموعہ ظہور میں لائے جس کو پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام کا قیام بھی ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد طویل منصوبہ ہے۔ یہ نہایت گہری جدوجہد کا طالب ہے۔ کچھ زندگیاں درخت کے بیج کی مانند اپنے آپ کو عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتی ہیں۔ کچھ روحیں عالم حقائق میں گم ہوکر خدا کے چھپے ہوئے خزانوں کو اجتماعی سطح پر بکھیرتی ہیں تو اس کے بعد دہ واقعہ رونما ہوتا ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے کچھ لوگ جو جیتے جی اپنے آپ کو آخرت میں پہنچا چکے ہوں، جب وہ آخرت کی ابدی تجلیوں کو دنیا میں اتارتے ہیں تو اسی انعکاس نور کا نام اسلامی نظام ہوتا ہے۔ اسلامی نظام خدا کی اخروی نعمتوں کا زمینی ظہور ہے۔ جو لوگ اپنی جاہ طلبی کے تماشوں کو اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں، ایسے لوگ اسلامی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ تو کیا پائیں گے، البتہ یہ اندیشہ ہے کہ خدا کے یہاں وہ دھوکہ بازی کے مجرم قرار دئے جائیں کیونکہ انہوں نے اپنے ٹھنڈ کو خدا کا سر سبز و شاداب درخت کہنے کی جسارت کی تھی۔ (۲۴ اپریل ۱۹۷۹)

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page