خود نمائی کے شوق میں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳
دین کیا ہے۔ دین یہ ہے کہ آدمی کے اندر آخرت کی فکر پیدا ہو جائے ۔ اللہ سے تعلق ، موت کی یاد، جہنم کا اندیشہ ، یہ چیزیں اس پر اتنا چھا جائیں کہ وہ ہر وقت اسی کے لئے سوچے، اس کے ہر قول و عمل سے اسی کا اظہار ہونے لگے۔ مگر موجووہ زمانہ میں یہی چیز اجنبی ہو گئی ہے۔ ہر طرف دین کا غلبہ برپا ہے مگر دین کی جو اصل روح ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک دنیا میں جینا۔ دوسرے، آخرت میں جینا۔ غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی اسی دنیا میں جی رہا ہو۔ اس کے برعکس اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی آخرت میں جینے لگے۔ خدا کی اس کائنات میں وہ ابھی سے پہنچ جائے جہاں بالآخر ہر ایک کو پہنچنا ہے۔ دین دار بننا دراصل آخرت کی فضاؤں میں جینا ہے۔ مگر عام طور پر لوگ دین کی اہمیت کو آخرت کی سطح پر سمجھ نہیں پاتے۔ اس لئے وہ خدا کے دین کو دنیا کی سطح پر اتار لاتے ہیں۔ دین سے مال اور اولاد میں برکت حاصل کرنا، دین کو معاشی اور سیاسی نظام کی صورت میں دیکھنا، دین کو سماج سدھار کی ایک اسکیم کی حیثیت سے پیش کرنا، دین کو سیکولرازم اور سوشلزم کی اصطلاحوں میں بیان کرنا، وغیرہ یہ ساری چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آدمی دین کی اہمیت کو آخرت کی سطح پر نہ پا سکا۔ وہ اس کو اس دنیا کی سطح پر اتار لایا ہے جہاں وہ خود جی رہا ہے۔
ایک شخص دنیا میں محنت کرے اور عزت ، دولت ، عہدہ اور اعوان و انصار حاصل کرلے تو لوگ اس سے دبتے ہیں اور اس کا لحاظ کرنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ لوگ جس معبود دنیا کے قائل ہیں ، اس نے اس معبود کو اپنی پشت پر جمع کر لیا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص آخرت کی فکر کرے اور اس فکر کی وجہ سے دنیا کے ساز و سامان اپنے گر دجمع نہ کر سکے وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے ، کیوں کہ لوگ جس معبود سے واقف ہیں، وہ معبود انھیں اس کے آس پاس دکھائی نہیں دیتا۔ مگر قیامت کا دھماکا جب جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کر دے گا تو اچانک لوگ جان لیں گے کہ وہ آخرت پسند شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ لیا تھا وہی سب سے زیادہ قیمت والا انسان تھا۔ کیوں کہ اس کی پشت پر دہ خدا کھڑا ہوا تھا جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے جھوٹے معبودوں پر بھروسہ کرنے والے اس دن اس حال میں ہوں گے کہ کسی دیوار کا سایہ بھی ان کے لئے نہ ہو گا جہاں وہ پناہ لے سکیں۔
حقیقت کی آواز آدمی کے کان کے پردہ سے ٹکراتی ہے ۔ اس کا دل اس کی صداقت کا اقرار کرتا ہے۔ مگر اپنے جاننے والوں کے درمیان اپنے مقام کو باقی رکھنے کی خاطر وہ حقیقت کا انکار کر دیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ عوام کے نزدیک اپنے درجہ کو باقی رکھنے کی کوشش میں وہ خدا کے نزدیک اپنے درجہ کو ختم کر رہا ہے