دنیا بے معنی ہنگامہ آرائیوں کا وقتی اسٹیج نہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
دنیا بے معنی ہنگامہ آرائیوں کا وقتی اسٹیج نہیں
وما خلقنا السماء والارض وما بينهما باطلاً اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے ذلك ظن الذین کفروا فویل للذین کفروا من بے فائدہ نہیں بنایا۔ یہ ان کا گمان ہے جو منکر ہیں۔ پس النار۔ ام نجعل الذین آمنوا وعملوا الصّلحت منکروں کے لئے خرابی ہے آگ سے۔ کیا ہم ایمان والوں اور كالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین اچھے کام کرنے والوں کو ان کے برابر کر دیں گے، جو زمین میں كالفجار (ص - ۲۸-۲۷) فساد کرتے ہیں یا ہم ڈر رکھنے والوں کو ڈھیٹ لوگوں کے برابر کر دیں گے۔
دنیا میں جو لوگ اپنی خواہشات پر چلتے ہیں اور کسی پابندی کو اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتے، وہ گویا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کارخانہ خدا نے بے فائدہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے لوگ خواہ بظاہر اپنے کو دیندار ظاہر کرتے ہوں یا دین سے بالکل بے تعلق ہوں، وہ مفسدین کے گروہ میں شامل ہیں۔ کیوں کہ ان کی ڈھٹائی بتا رہی ہے کہ وہ دنیا کو خدا کی دنیا نہیں سمجھتے بلکہ اس کو اپنی ہنگامہ آرائیوں کا ایک وقتی اسٹیج سمجھتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ جو چاہے کرتے رہیں، کوئی ایسا دن آنے والا نہیں جب کہ انصاف کا ترازو کھڑا ہو اور ان کے عمل کا ان سے حساب لیا جائے۔ اللہ نے اپنے قانون امتحان کی بنا پر ان کو مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ مگر بہت جلد وہ جان لیں گے کہ وہ شدید ترین غلط فہمی میں تھے۔ اگر چہ یہ جاننا ان کے کام نہ آئے گا، کیوں کہ وہ وقت اپنے عمل کا بدلہ پانے کا ہوگا نہ عمل کرنے کا۔ ایک شخص وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ وہ خدا کے بندوں کے درمیان انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے وسائل کو نمائش اور تخریب میں ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کو اصلاح اور تعمیر کے کاموں میں لگاتا ہے۔ وہ خدا کے حکم کے آگے جھک جاتا ہے نہ کہ اپنی خواہشوں اور امنگوں کو حق کا معیار سمجھنے لگے۔ دوسری طرف وہ انسان ہے جو خدا کی زمین میں متکبر بن کر رہتا ہے۔ وہ خدا کے دیئے ہوئے مال کو اپنے ذاتی شوق میں برباد کرتا ہے۔ وہ خدا کی دی ہوئی طاقت کو دوسرے انسانوں کی جڑ اکھاڑنے میں لگاتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے مواقع کو اپنی بڑائی قائم کرنے میں استعمال کرتا ہے۔ جب کوئی معاملہ پڑتا ہے تو وہ حق کے آگے جھکنے کے بجائے خود حق کو اپنے آگے جھکانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دونوں انسان مکمل طور پر ایک دوسرے سے مختلف انسان ہیں۔ ان کا انجام ایک ایسی کائنات میں یکساں نہیں ہو سکتا جو حق اور عدل پر بنائی گئی ہے۔ کائنات اپنی اتھاہ معنویت کے ساتھ ایسے انجام کو ماننے سے انکار کرتی ہے جس میں ڈرنے والے اور ڈھٹائی کرنے والے دونوں یکساں ہو جائیں۔ اس قسم کا گمان کائنات پر اور کائنات کے بنانے والے پر اتہام ہے۔ جو لوگ ایسا گمان کریں وہ صرف اپنے جرم میں اضافہ کرتے ہیں، وہ آنے والے انجام کو بدل نہیں سکتے۔ تخلیق کا پورا کارخانہ اپنے خالق کا تعارف ایک عادل اور حکیم ہستی کی حیثیت سے کر رہا ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اس کا خاتمہ ایک ایسے انجام پر ہو جو عدل و حکمت کے سراسر خلاف ہے۔