Al-Risala · May 1979 · page 16

خدا پاک کو ناپاک سے جدا کرتا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۶

خدا پاک کو ناپاک سے جدا کرتا ہے

ما كان الله ليذر المؤمنين علی ما انتم عليه اللہ نہیں ہے کہ چھوڑ دے مسلمانوں کو جس طرح پر تم ہو. جب حتى يميز الخبيث من الطيب وما كان الله تک جدا نہ کرے ناپاک کو پاک سے ۔ اور اللہ یوں نہیں کہ تم ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى من رسله من کو خبر دار کر دے غیب کے اوپر۔ بلکہ اللہ چھانٹ لیتا ہے يشاء فامنوا بالله ورسله وان تؤمنوا وتتقوا اپنے رسولوں میں جس کو چاہے۔ پس تم یقین لاؤ اللہ پر اور فلکم اجر عظیم (آل عمران (۱۷۹) اس کے رسولوں پر۔ اور اگر تم یقین پر رہو اور پرہیزگاری کرو تو تم کو بڑا ثواب ہے۔

اللہ کی نظر میں کون اچھا ہے اور کون برا، اس کا حال اسی دنیا میں کھل جاتا ہے۔ مگر اس کا اندازہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ غیر معمولی حالات پیش آئیں۔ جب کہ انسان کو اپنے سانچے کو توڑ کر اور اپنی زندگی کی روش کو بدل کر اس بات کا ثبوت دینا ہو کہ وہ الواقع اللہ پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پکڑ سے ڈرنے والا ہے۔ ایک آدمی کے ساتھ جب کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آتا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے اس کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ اللہ اس کو ایک معاملاتی جانچ میں ڈال کر دیکھتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرنے والا ہے یا اس کے سینہ میں ایسا دل ہے جو اللہ کے خوف سے خالی ہے۔ معاملہ کے وقت وہ بے انصافی کرتا ہے یا انصاف سے کام لیتا ہے۔ وہ ڈھٹائی کے راستہ پر چلتا ہے یا اعتراف کے راستہ پر۔ وہ گھمنڈ کا طریقہ اختیار کرتا ہے یا تواضع کا۔ وہ خدا کے حکم کو نظر انداز کرتا ہے یا اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ جب بھی آدمی اپنے آپ کو اس قسم کے دو امکانات کے درمیان پائے تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ اس کے رب نے اس کو پل صراط پر کھڑا کر دیا ہے جو بال سے زیادہ باریک ہے۔ ایک طرف اگر وہ بھٹکتا ہے تو وہ جہنم میں جاگرے گا اور دوسری طرف بھٹکتا ہے تو جنت میں اپنے آپ کو پائے گا۔

کون خدا کی نظر میں کیا ہے ، اس کا اعلان فرشتوں کے ذریعہ نہیں کرایا جاتا۔ اس معاملہ میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان انسانوں میں سے ایک انسان کو کھڑا کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے حق کی آواز کو بلند کرتا ہے۔ اس آواز کو ماننے یا نہ ماننے میں آدمی کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی بولی میں خدا کی آہٹ کو پالینا اپنے جیسے ایک انسان کی آواز میں حق کی تجلیات کو پہچان لینا، یہی اللہ کی نظر میں آدمی کا اصل کمال ہے، جو اس کمال کا ثبوت دے وہ اللہ کی نظر میں پاک انسان ہے، اس کے لئے جنت کی سر سبز بستیاں ہیں۔ اور جو لوگ اس جانچ میں ناکام رہیں وہ اللہ کی نظر میں ناپاک لوگ ہیں۔ دنیا میں خواہ وہ کتنے ہی کامیاب نظر آئیں۔ مگر آخرت میں دوزخ کی آگ کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جہاں ان کو ٹھکانا مل سکے۔ آدمی صالح ہے یا غیر صالح ، اس کا فیصلہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ اس کی انصاف پسندی اس وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اپنے مخالف سے معاملہ کر رہا ہو۔ اس کی تحقیر بھی اس وقت معلوم ہوتی ہے جبکہ حق کی آواز اس کو ایک ایسے گوشہ سے سنائی دے جس طرف اس کا گمان نہیں گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page