Al-Risala · May 1979 · page 15

دنیا بے معنی ہنگامہ آرائیوں کا وقتی اسٹیج نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

حاسبو ا قبل ان تحاسبوا (حدیث)

دنیا میں اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے آخرت میں تمھارا حساب کیا جائے آپ کے ساتھ کوئی شخص غلط سلوک کرے، کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً آپ کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ آپ اس کو ذلیل اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس سے زیادہ برا اور کوئی شخص نہیں ہوتا۔ مومن وہ ہے جس کے اندر یہی شدت احساس خود اپنی غلطیوں کے بارہ میں پیدا ہو جائے۔ اس سے کوئی غلطی ہو تو فوراً وہ جان لے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اپنی غلطیوں کو جاننے کے لئے وہ اتنا ہی حساس ہو جائے جتنا کوئی شخص دوسرے کی غلطیوں کو جاننے کے لئے ہوتا ہے۔ غلطی سرزد ہوتے ہی وہ تڑپ اٹھے کہ مجھ سے ایسا فعل ہو گیا جو مجھ کو خدا سے دور کرنے والا ہے۔ جو مجھ کو آخرت میں بے قیمت بنا دینے والا ہے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہو کہ اپنا وجود اس کو اپنی نظر میں حقیر معلوم ہونے لگے۔ اپنے احتساب کے لئے وہ اس سے زیادہ بے رحم ہو جائے جتنا کوئی شخص اپنے دشمن کے احتساب کے لئے ہوتا ہے۔

ایسے ہی لوگ اللہ والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا تا کہ ان کے لئے اللہ کے یہاں جنت ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس قسم کی متقیانہ زندگی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کا رب ان سے ملاقات کے عظیم دن کہے گا کہ آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ ان کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے اور خدا کی طرف سے پکارنے والا پکارے گا : ابدی باغوں میں بنے ہوئے جمنی مکانات آج تمھاری وراثت میں دے دیئے گئے۔ جس دروازہ سے چاہو اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد نہ تمھارے لئے کوئی غم ہے اور نہ تکلیف۔

چھری ، کانٹے اور چمچے کی آوازیں سنتے ہیں۔ پھر ان آوازوں میں سے کسی آواز کو اپنے بچہ کے نام کے لئے منتخب کر لیتے ہیں ۔ مثلاً پنگ ، چنگ ، ٹنگ، فنگ، چیانگ وغیرہ لطیفوں سے استدلال کا یہ طریقہ کہ آپ کسی بھی چیز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ قرآن در حدیث سے لے کر عام کتابوں تک کوئی بھی چیز اس کی زد سے محفوظ نہیں۔

ایک شخص سب کو یکساں طور پر اپنی لطیفہ گوئی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس قسم کے دلائل" کا ایک ہی آزمودہ جواب ہے۔ مسکرا کر چپ ہو جانا۔

چینیوں کے نام ایسے ہوتے ہیں جن میں اکثر ٹن ٹن جیسی آوازیں ہوتی ہیں۔ اس پر کسی نے لطیفہ بنایا کہ چین میں جب کسی کے گھر میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو گھر والے نام رکھنے کی تقریب ایک شخص سب کو یکساں طور پر اپنی لطیفہ گوئی کا نشانہ بنا مناتے ہیں۔ اس تقریب میں گھر کی تمام کٹلری (چھری چمچہ وغیرہ) فضا میں اچھالی جاتی ہے ۔ ماں باپ گرتے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page